قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس،کرونا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے اہم فیصلے


اسلام آباد (ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی ) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) نے

کورونا وائرس کے عدم پھیلاﺅ اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کےلئے تمام صوبوں کی رضامندی کے بعد ملک بھرمیں تعلیمی ادارے 31 مئی تک بند رکھنے، اولین ترجیح کے طور پر ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کو حفاظتی سامان کی فوری فراہمی، اسٹیٹ بینک اور نادرا کو سندھ حکومت کو درکار تعاون فراہم کرنے ، ریلیف پیکیج میں صوبائی حکومتوں کے تعاون کےلئے مربوط نظام بنانے، کورونا وائرس سے متعلق نیشنل کمانڈ سینٹرمیں صوبوں اور وفاق کے نمائندوں کی موجودگی یقینی بنانے اور نماز جمعہ کے اجتماعات محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اسد عمر، وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری، وزیراعظم کی معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹینٹ جنرل محمد افضل اور معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ویڈیو لنک کے ذریعے میڈیا کو بریفنگ دی ۔
آج جمعہ کو قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں بلوچستان اور کے پی کے حکومت کی جانب سے ٹرانسپورٹ کی بندش پر درپیش چینلجنز، ادویات، کھانے پینے کی اشیاءسمیت کاروبار کھلے رکھنے کے فیصلے کا جائزہ لیا جائے گا، اس وقت ملک میں کورونا وائرس متاثرہ مریضوں کی تعداد 1102 ہے، 24 گھنٹوں میں 102 مریضوں کا اضافہ ہوا ہے، مجموعی طور پر اب تک کورونا وائرس سے 8 اموات ہوئی ہیں، پاکستان بھر میں آئی سی یوز میں 19670 بیڈز، قرنطینہ سینٹرز میں بیڈز کی تعداد ایک لاکھ 62 ہزار، مختلف تھری، فور اور فائیوسٹارز ہوٹلوں کو بھی بک کر لیا گیا ہے، پاکستان بھر میں آئی سی یوز میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور عملے کی تعداد 30 ہزار ہے، قومی رابطہ کمیٹی نے آٹے کی قلت کا نوٹس لیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسی صورتحال میں ذخیرہ اندوزی کرنے والے اللہ تعالی، ملک اور قوم کے مجرم ہیں، ملک میں آٹے کی قلت نہیں ہے، اس وقت بھی ملک میں گندم کے 17 لاکھ ٹن ذخائر ہیں اور نئی گندم بھی آنے والی ہے، کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنا بہترین حکمت عملی ہے، حکومت کے ساتھ ساتھ ہر شہری کا رویہ، رہن سہن کا طریقہ اور فیصلوں کا پوری قوم پر اثر پڑتا ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات اسد عمر نے بتایا کہ حکومت کورونا وائرس کے پھیلاو¿ کو کم کرنے کےلئے بھرپور کوشش کی جا رہی ہے، وائرس سے نمٹنے کےلئے قومی حکمت عملی کے تحت چل رہے ہیں، ہیلتھ سے متعلق تمام عملہ ہراول دستے کا کردار ادا کر رہا ہے، ملک میں آ ٹے کی کوئی قلت نہیں ہے،اور اس وقت ملک میں 17 لاکھ ٹن آٹا موجود ہے، کچھ علاقوں میں آٹے کی زائد قیمت کی اطلاعات ہیں، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ وباءکا پھیلاو¿ روکنے کےلئے ہر ممکن اقدامات کئے گئے ہیں، وائرس کا پھیلاو¿ روکنا ایک قومی فریضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ ورکرز قوم کے مجاہد ہیں، وہ ہراول دستے کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کل یا پرسوں دو بڑے اقدامات کا اعلان کرنے جا رہے ہیں، سندھ حکومت نے وفاق سے جو مدد مانگی ہے وہ دینے کا فیصلہ کیا۔