
اسلام آباد (ویب ڈیسک،خبر ایجنسی) وزیراعظم عمران خان نے اس عزم کو دہرایا ہے کہ ایک طرف عوام کو کورونا وائرس وباء سے بچانا اور دوسری
جانب عوام کو بھوک‘ افلاس اور بے روزگاری سے بھی محفوظ رکھنا ہے‘ وفاقی کابینہ نے قومی رابطہ کمیٹی کے فوڈ سپلائی کے لئے گڈز ٹرانسپورٹ کھولنے کے فیصلے پر سندھ حکومت کی جانب سے عملدرآمد نہ کرنے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور رینجرز کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ قومی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمدی یقینی بنایا جائے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے کورونا کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے کابینہ کو اعتماد میں لیا اور کورونا وائرس سے بچاؤ اور اس کے منفی اثرات کو روکنے اور منفی اثرات سے بچانے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔
‘ وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس متاثرہ لوگوں کی تذلیل اور بدسلوکی کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایات دیں کہ کورونا وائرس کے مریضوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آیا جائے‘ وفاقی کابینہ نے 1200 ارب کے معاشی ریلیف پیکیج اور 700 بلین کا ہدف حاصل کرنے کیلئے سکوک بانڈ کے اجراء کی منظوری دیدی‘ وفاقی کابینہ نے ریلوے‘ پی آئی اے‘ ایف بی آر اور ایکس چیکر پر بوجھ بننے والے اداروں کو اصلاحات کے ذریعے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے‘ ای گورننس پر عملدرآمد کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت دی‘ کابینہ نے اپوزیشن لیڈر کی تنقید اور الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم‘ وفاقی کابینہ اور پی ٹی آئی قیادت ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں‘ یہ وقت سیاست کا نہیں ہے‘ اگر اپوزیشن لیڈر بہتری چاہتے ہیں تو بغض‘ عناد کی عینک اتار کر مزید مؤثر بہتر اقدامات کیلئے تجاویز دیں۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں اب تک کیے گئے فیصلوں اور اس کے عوام پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کو وزیر صحت ظفر مرزا اور ڈاکٹرفیصل نے کورونا وائرس کی تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک پاکستان میں کورونا وائرس کے مصدقہ 1865 کیسز ہیں ان میں سے 49 فیصد افراد ایران سے جبکہ 18 فیصد دیگر ممالک (عمرہ‘ یورپ یا دیگر ممالک) آئیں جبکہ 33فیصد کورونا وائرس کے مقامی منتقلی کے کیسز ہیں‘ اب تک کورونا وائرس پازیٹو کے 98افراد صحت یاب‘ 25 اموات‘ 12 کورونا وائرس مریض وینٹیلیر پر ہیں جبکہ 58 کو قرنطینہ سے گھر بھجوایا گیا ہے۔
۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے سیاسی دکانداری لگا کر سیاسی طور پر زندہ رہنے کی کوشش کی کیونکہ اپوزیشن لیڈر کے پاس کرنے کے لئے کچھ اور نہیں ہے‘ وہ صرف کرونا وائرس کو سیاسی آکسیجن کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں۔














