
اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے چیلنج سے نمٹنے کے دوران ہم نے ملک کے
تمام تر طبقوں خصوصاً غریب اور کمزور طبقوں کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر حکمت عملی تشکیل دینی ہے۔کورونا سے بچاؤ اور معاشی عمل کی روانی میں توازن رکھنا ہو گا۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اشرافیہ کی ضروریات اور مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے پالیسیاں تشکیل دی جاتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے چیلنج سے نمٹنے کے دوران ہم نے ملک کے تمام تر طبقوں خصوصاً غریب اور کمزور طبقوں کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر حکمت عملی تشکیل دینی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کورونا سے بچاؤ اور معاشی عمل کی روانی میں توازن رکھنا ہے۔ مساجد کے حوالے سے لائحہ عمل علمائے کرام کی مشاورت سے طے کیا گیا اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ذمہ داری علمائے کرام نے خود اپنے ذمہ لی۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے سماجی فاصلہ (سوشل ڈسٹنسنگ) کو یقینی بنانا معاشرے کے ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ماہ رمضان کے آنے والے دنوں میں حالات اور عوام کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء حماد اظہر، اسد عمر، مخدوم خسرو بختیار، سید فخر امام، عمر ایوب خان، معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، ڈاکٹر معید یوسف، چیئرمین این ڈی ایم اے و دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔














