
اسلام آباد (ویب ڈیسک) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہاہے کہ حکومت نے کراچی طیارہ حادثہ کی تحقیقات کا وعدہ کیا ہے اور امید ہے کہ 22
جون تک اپنی رپورٹ پیش کرے گی، حادثات کی صورت میں بہتر ردعمل کا نظام یقینی بنایا جانا چاہئے۔ اس سے مستقبل میں اس طرح کے حادثات کو روکا جاسکتا ہے، متاثرین کے گہرے رنج و غم کی المناک کہانیاں تھیں جو میں نے سنی ہیں۔
ٹوئٹس میں انہوں نے کہاکہ انہوں نے پی آئی اے طیارہ حادثہ کے ہر متاثرہ خاندان کوتعزیت کے لئے ٹیلی فون کیا،متاثرین نے دل دہلا دینے والے حقائق بتائے۔انہوں نے کہاکہ حادثہ میں نوبیاہتا جوڑے جاں بحق ہوئے۔ان خاندانوں میں پیدا ہونے والے بچے ہیں جو پیدائش سے پہلے ہی یتیم ہوچکے ہیں۔شہید ہونے والوں میں والدین، بھائیوں اور بہنوں کے علاوہ پورے خاندان بھی جاں بحق ہوئے، متاثرین کے گہرے رنج و غم کی المناک کہانیاں تھیں جو میں نے سنی ہیں۔
ڈاکٹر عارف علوی نے کہاکہ میں صرف دو شہیدوں کے جنازہ میں شریک ہو سکا،ہر ایک کے ساتھ بات چیت کئے بغیر اس تکلیف کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔انہوں نے کہاکہ ڈی این اے کے نمونے لینے کی جدید صلاحیت کے باوجودمیتوں کی شناخت میں جو وقت لگا اس کا اپنا درد رہا۔ والدین شہید ہونے والے اپنے بیٹے،بیٹیوں اور چھوٹے بچوں کویاد کرتے رہے۔حادثہ میں بچ جانے والے رشتہ دار اپنے بزرگوں کے لئے آنسو بہاتے رہے۔ تنہا روٹی کمانے والے اس سانحے میں کھو گئے اور اہل خانہ آئندہ زندگی سے پریشان تھے۔
ڈاکٹر عارف علوی نے کہاکہ میں یہ دعوی بھی نہیں کرسکتا کہ ان کے دکھ کو بھی بانٹا جاسکتا ہے کیونکہ یہ بہت گہرا ہے تاہم ہمدردی کے کچھ الفاظ بعض اوقات درد کو کم کرسکتے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو ان کے معاملات میں مدد کرنے کی کوشش کی اور کرتے رہیں گے۔














