
اسلام آباد(ویب ڈیسک) جمعیت علماء اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت بستر مرگ پر ہے، جب
تک2018ء کے انتخابی کرونا وائرس سے نجات حاصل نہیں کریں گے، قوم مشکلات سے دوچار رہے گی، اسٹیٹ بینک اور معاشی ماہرین نے دسمبر2019ء میں کہہ دیا تھا کہ معاشی تنزلی عروج پر ہے معاشی پہیہ جام ہوچکا ہے، اب معاشی بدحالی کے معاملے پرکرونا وائرس کے پیچھے چھپا جارہا ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے بجٹ 2020-21ء کے حوالے سے سلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کرونا کا جواز بنارہی ہے تو اپوزیشن بھی اپنی کمزوریوں کرونا پر ڈال رہی ہے، آزادی مارچ میں بڑی جماعتیں یکسوئی سے ساتھ دیتی تو آج ملک میں یہ جعلی اور فراڈ حکومت نہ ہوتی، اپوزیشن کو 100فی صد ہم آہنگی سے فرض اداد کرنا ہوگا تب ہی جعلی حکومت کو گرایا جاسکتا ہے تاہم عوام دشمن بجٹ حکومت مخالف تحریک کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ عوامی جذبات احساسات کا ادراک کرے، عوامی معاشی تباہی کے نتیجے میں انسانوں اور ریاستوں کی خدمت تو دور کی بات ہے۔ انسان ایک چیونٹی کی خدمت نہیں کرسکتا، روس کی مثال سامنے ہے،عوام دشمن بجٹ کیخلاف اپوزیشن کو دوبارہ متحد کیا جائے گا، موجودہ حکومت کو آخری جھٹکا قومی وحدت سے ہمارا ہی لگے گا۔
انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کو اکٹھا ہونا ہوگا حکومت نے اگر اپنی کمزوریوں کرونا پر ڈالی ہیں تو اپوزیشن نے بھی کم نہیں کیا۔ اپنی کمزوریاں کرونا پر ڈال دی گئیں۔ آزادی مارچ میں یکسوئی سے یہ اپوزیشن جماعتیں ساتھ دیتی تو 2018ء کے کرونا وائرس سے نجات حاصل کرچکے ہوتے۔ اس حکومت کی گرتی دیوار کو آخری جھٹکا ہم ہی قومی وحدت سے دیں گے۔ اپوزیشن جماعتوں کو سو فیصد اپنا فرض ادا کرنا ہوگا اسی صورت میں ملک و قوم کو روشن مستقبل دے سکتے ہیں۔














