وبا میں بھی حکومت کو آئی ایم ایف کی فکر ہے عوام کی نہیں،بلاول بھٹوزرداری

اسلام آباد (ویب ڈیسک)پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ حکومت کی سلیکشن میں وفاق،عوام کو نقصان پہنچایا جا

رہا ہے اس کا ذمہ دار کس کو ٹھرائیں۔،ہمیں عالمی ادارہ صحت کی بات سننا تھی، لیکن ہمارا وزیراعظم اپنے اے ٹی ایم کی بات سن رہا تھا۔ وبا میں بھی حکومت کو آئی ایم ایف کی فکر ہے عوام کی نہیں، آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ معیشت آئی سی یو میں تھی۔ اب معیشت وینیٹی لیٹر پر آگئی ہے۔
منگل کو قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ 2020.21پر تقریر کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ این ایف سی اور اٹھارہویں ترمیم پاکستان کی فالٹ لائنز ہیں۔حکومت مشاورت کی بجائے فالٹ لائنز کو چھیڑ رہی ہے۔ تربت میں خاتون کو شہید کیا گیا۔سابق فاٹا میں پی ٹی ایم کے رہنما کو قتل کیا گیا۔ یہ ہماری فالٹ لائنز ہیں۔ مگر حکومت نے ہر فالٹ لائن کو چھیڑنے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ٹڈی دل کیلئے دس ارب اور ڈیم کے لیے اسی ارب رکھتے ہیں۔این ایف سی ایوارڈ سے آزاد کشمیر کے لیئے فنڈ رکھے جا رہے ہیں۔جس سے کشمیر کی خودمختاری پر سوال اٹھتے ہیں۔ حکومت فوری طور پر این ایف سی نوٹیفکیشن واپس لے۔
۔بلاول بھٹو نے کہا کہ جناب اسپیکر آپ کو ہاؤس میں صحت یاب دیکھ کر خوشی ہوئی ہے۔ہم تاریخ میں اس وقت چیلنجز کے سامنے کھڑے ہیں۔پاکستان میں اس وقت کورونا سے 15 منٹ بعد ایک شخص جان کی بازی ہار رہا ہے۔ہمارا 2020 کا جو بجٹ ہے، وہ ہمارا بجٹ نہیں ہو سکتا ہے۔اب تک کم ازکم 2019 پاکستانی انتقال کر چکے ہیں۔پاکستان میں ڈاکٹر نرسنگ اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے 2 ہزار سے زائد لوگ اس کا شکار ہو گئے۔کس نے کہا تھا کہ پاکستان میں یہ تو نزلہ زکام ہے۔ [قومی اسمبلی ہمیں اندازہ ہونا چاہیے کہ تاریخ میں ہم کہاں کھڑے ہیں ہمیں صدی میں بڑا چیلینج درپیش ہے۔
انہوں نے کہا کہ کورونا ملک کو توڑ سکتا ہے اس وقت پاکستان میں ہر 15 منٹ بعد ایک بندہ کورونا سے متاثر ہو رہا ہے۔۔ عوام ان کوا ٓئندہ انتخابات میں سبق سکھائیں گے۔