
اسلام آباد (ویب ڈیسک)قومی اسمبلی کا اجلاس حکومت اپوزیشن میں بدمزگی پر کاروائی معطل رہنے کے بعد دوبارہ شروع ہوا تو ڈپٹی اسپیکر
نے ایک بار پھر واضح کیا کہ قبلہ اول پر قابض اسرائیل کو پاکستان کسی صورت تسلیم نہیں کرے گا ایوان میں وفاقی وزیر مرادسعید کی تقریر کے دوران مرتضی جاوید عباسی شیخ روحیل اصغر اور خواجہ آصف غصے میں آگئے تھے۔
قاسم سوری نے دوٹوک اعلان کہا کہ قبلہ اول اور فلسطینیوں کو اسرائیل کے قبضے سے چھڑانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں اسرائیل قابض ہے کبھی پاکستان نے تسلیم کیا نہ کرے گا۔ ہمارے دل مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں ایوان میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے وضاحت کی کہ واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتوں میں حقیقت نہیں۔عرب ممالک کے دبا ؤ میں آکر ہر گز اپنی پالیسی پر نظر ثانی نہیں کر رہے۔ فلسطین پر ہمارا وہی موقف ہے جو پاکستان کا موقف رہا ہے۔ہم دو ریاستی نظریہِ کے کل بھی حمایتی تھے آج بھی ہیں۔ہماررا موقف ہے القدس الشریف فلسطین کا دارالحکومت ہو۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میری غیر حاضری میں خواجہ آصف نے کچھ باتیں کیں میں چاہتا ہوں ایوان کے سامنے تفصیلات پیش کروں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہم اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کرتے ہیں۔میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ خواجہ آصف کے بقول ہم عرب ممالک کے اثر میں آ کر کہیں اسرائیل تسلیم نہ کر لیں میں بتارہا ہوں کہ اس میں بھی کوئی حقیقت نہیں۔ فلسطین پر پاکستان کا موقف وہی ہے جو روز اول سے ہے۔ ہم فلسطین کا درالخلافہ القدس کو ہی مانتے ہیں۔ اس میں کسی ابہام کی ضرورت نہیں۔ ہندوستان کا سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتوں میں حقیقت نہیں عرب ممالک کے دبا ؤمیں آکر ہر گز اپنی پالیسی پر نظر ثانی نہیں کر رہے۔














