طیارہ کیس:پائلٹ لاہور سے کراچی تک کورونا وائرس پر بات کرتا رہا

؎اسلام آباد(ویب ڈیسک) قومی اسمبلی میں وزیر ہوا بازی غلام سرور خان ایوان میں طیارہ حادثہ رپورٹ پیش کردی ہے،ابتدائی رپورٹ میں کراچی

حادثہ میں پائلٹ کی زیادہ خود اعتمادی،کنٹرول ٹاور کی ہدایات پر عمل نہ کرنا،پائلٹ کی فیملی کورونا میں مبتلا تھی لاہور سے کراچی تک کے سفر میں کوپائلٹ کے ساتھ کورونا پر ہی بات ہوتی رہی،لینڈنگ سے قبل10ناٹیکل پر لینڈنگ گئیرکھول دیے گئے اور پھر 5ناٹیکل پر گئیر اوپر کر دیے گئے۔کنٹرول ٹاور نے 3بار کہا کہ آپ کی بلندی 7220فٹ پر ہے لینڈنگ کے لیے2500فٹ پر ہونا چاہیے تھا اس کے باوجود پائلٹ نے جواب دیا کہ میں سنبھال لوں گا۔
گزشتہ روز قومی اسمبلی میں وزیر ہوا بازی نے کراچی طیارہ حادثہ پر رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے یہ پہلا واقعہ نہیں ہے،بہتر سالوں میں بارہ واقعات ہوئے ہیں،ان بارہ واقعات کی بروقت انکوائری ہوئی نہ رپورٹ سامنے آئی، ذمہ داروں کا تعین اور سزا بارے کوئی نہیں جان سکا،طیارہ حادثہ میں 97 افراد شہید ہوئے، اسی رات ایک ٹیم تشکیل دی جو سینئر ترین افراد پر مشتمل بورڈ تھا،اسی رات یہ بورڈکراچی پہنچا اور اس نے اپنی تحقیقات کا آغاز کردیا۔
سابق تمام حادثات کی بروقت انکوائری ہوئی نہ رپورٹ سامنے آئی نہ حقائق عوام تک پہنچے،آج تک عوام اور مرنے والوں کے لواحقین میں تشنگی جاری رہی کہ ان واقعات کے ذمہ دار کون تھے،وزیراعظم کی ذاتی دلچسپی اور کورونا کی صورتحال کے باوجود انکوائری بورڈ نے احساس ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض منصبی ادا کئے،مذکورہ کراچی حادثہ 22 تاریخ کا واقعہ اور 26 تاریخ کو فرانسیسی ٹیم موقعہ پر آئے،دس لوگ اْنکے اور چار لوگ ہمارے تھے عوام رائے سامنے آئی کہ پائلٹس کو بھی انکوائری کمیٹی کا حصہ بنایا جائے۔
اس پرائیر بلیو کے دو پائلٹس کو کمیٹی کا حصہ بنایا، بحیثیت مسلمان اور پاکستانی ایک شفاف انکوائری ہو رہی ہے، یہ ایک عبوری رپورٹ ہے مکمل انکوائری رپورٹ میں تمام تر معاوضہ جات، محرکات اور حقائق سامنے لائیں گے،جس کمپنی نے جہاز بنایا وہ حکومت فرانس کا نمائندہ اور ایک امریکن بھی اس میں موجود تھا دس غیر ملکی افراد میں سے چار افراد ملکی افراد تھے جبکہ پائلٹ بھی سٹیک ہولڈرز تھے اس لیے اس بورڈ کو بڑھایا۔ بین الاقوامی پائلٹ ایسوسی ایشن کو خط لکھا ایک اے تھری پائلٹ اور ٹیکنیشن بھجوایا جائے تاکہ اس کی شفاف تحقیقات ہوسکیں۔