وقت آ گیا کہ ماحول کو محفوظ بنانے کیلئے اقدامات کریں،وزیر اعظم عمران خان

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے ماحولیات کو اہمیت نہیں دی، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ماحول کو

محفوظ بنانے کے لئے اقدامات کریں۔نیشنل پارکس کا قیام آنے والی نسلوں کے لئے اہم قدم ہے۔
حول محفوظ بنانے کے بڑے اقدام کے تحت 15 نیشنل پارکس کے قیام کے منصوبے کے آغاز کے موقع پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ایکو ٹورازم کو سمجھنے اور دنیا سے سیکھنے کی ضرورت ہے، مقامی لوگوں کی شمولیت سے پارکس اور نایاب جانوروں کی حفاظت ممکن ہوگی اور روزگار کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔ نئے سیاحتی علاقے کھولنے سے قبل بائی لاز بنائے جائیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس منصوبے کے آغاز پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آبادی تیز رفتار سے بڑھ رہی ہے، اگر ہم نے اپنے خوبصورت سیاحتی علاقوں کو نہ بچایا تو آنے والی نسلوں کو یہ علاقے دیکھنے کو نہیں ملیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خوبصورتی سے مالا مال اور تنوع سے بھرپور ملک ہے، یہاں 12 ایکولوجیکل زونز ہیں، دنیا میں کہیں اس طرح کا تنوع نہیں پایا جاتا لیکن لوگ اس سے آگاہ نہیں ہیں۔ ہمارے صاحب اقتدار لوگ چھٹیاں منانے باہر جاتے تھے جہاں ان کے بڑے بڑے محلات ہیں، وہ پاکستان کی خوبصورتی سے واقف ہی نہیں، پاکستان کی وائلڈ لائف میں دنیا کوگہری دلچسپی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ 15 نیشنل پارکس کے قیام کا فیصلہ آنے والے نسلوں کے لئے اہم قدم ہے۔ ہمیں ابھی تک نیشنل پارکس کو چلانے کا طریقہ نہیں آتا، ہمیں سمجھ ہی نہیں ہے کہ اس کا انتظام و انصرام کیسے کرنا ہے اور اسے کیسے محفوظ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکو ٹورازم کو سمجھنے کی ضرورت ہے، ہمارے نئے سیاحتی علاقے ابھی تک اس لئے محفوظ ہیں کہ وہاں تک رسائی کے لئے سڑکیں نہیں ہیں۔
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو ہدایت کی کہ نئے سیاحتی علاقے اس وقت تک نہ کھولے جائیں جب تک ان کے حوالے سے قواعد و ضوابط (بائی لاز) نہ بن جائیں۔ ایسے علاقوں میں گاڑیاں لے جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے ورنہ وہ تباہ ہو جائیں گے۔ بہت سے سیاحتی علاقے اسی لئے تباہ ہو گئے کہ وہاں کیلئے بائی لاز نہیں بنائے گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایکو ٹورازم کے تقاضوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ مارگلہ ہلز کو بھی خراب کیا گیا۔ ہم نے اس کے تحفظ کے لئے اقدامات کئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس ملک کو بے تحاشہ نعمتیں اور خوبصورتی دی ہے۔ ہم نے 70 سالوں میں ان نعمتوں کی قدر نہیں کی۔ جنگلات بے دردی سے کاٹے جاتے رہے اور ڈویلپمنٹ کرتے وقت ماحول کا خیال نہیں کیا گیا۔ آبادی تین گنا ہو چکی ہے، آہستہ آہستہ سارے علاقے تباہ ہو رہے ہیں۔ ہم نے اپنے سیاحتی علاقوں کو بچانا ہے۔