
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدارتی خطاب کا بائیکاٹ کردیا، دیکھو دیکھو کون آیا، چور
چور آیا کے نعرے لگائے گئے، اپوزیشن جماعتوں میں تقسیم بھی دیکھنے میں آئی، دونوں بڑی جماعتوں کے شورشرابے اور نعروں کے دوران جمعیت علماء اسلام (ف) کے ارکان ان جماعتوں سے اظہار ناراضگی کرتے ہوئے ایوان سے نکل گئے تھے، تینوں جماعتوں نے الگ الگ میڈیا سے گفتگو کی پاکستان مسلم لیگ ن کے ارکان نے احتسابی کارروائی کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے احتجاجاً بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔، اپوزیشن نے رات کی تاریکی میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، مشترکہ کا نوٹس جاری ہونے پر بھی اظہار تشویش کیا ہے۔ اپوزیشن نے واضح کیا ہے کہ اس طرح تو یونین کونسل کا اجلاس بھی طلب نہیں کیا جاتا جس طرح ریاست کے اعلیٰ ترین ادارے پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ جمعرات کی شام پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس دس منٹ کی تاخیر سے پانچ بج کر 10منٹ پر شروع ہوا۔
اسپیکر اسد قیصر نے اجلاس کی صدارت کی، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی بھی موجود تھے۔ گزشتہ سال کی طرح اس بار بھی آرمی چیف مشترکہ اجلاس کی کارروائی دیکھنے اور صدر کا خطاب سننے نہ آسکے۔ گورنرز، وزرائے اعلیٰ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی غیر ملکی سفراء دیگر مہمان موجود تھے۔ اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف شریک نہ ہوسکے۔اسپیکر نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو خطاب کی دعوت دی تو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف اور جمعیت علماء اسلام(ف) کے رہنما مولانا اسعد محمود بات کرنا چاہتے تھے اسپیکر نے نظر انداز کردیا، صدر نے خطاب شروع کردیا، اپوزیشن نے شورشرابا شروع کردیا۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے ارکان نے سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں، چند لمحوں کے احتجاج کے بعد جمعیت علماء اسلام (ف) کے ارکان دونوں بڑی جماعتوں کے ارکان کا ساتھ چھوڑ کر تنہا ایوان سے باہر چلے گئے۔ دونوں بڑی جماعتوں کے ارکان نے بھی صورتحال کو دیکھ کر چند منٹ احتجاج کیا۔ خواجہ آصف نے کہاہماری بات سنی جائے۔
رات کی تاریکی میں اجلاس کا نوٹس جاری کیا گیا ہے تاہم صدر نے خطاب جاری رکھا اور جب اپوزیشن کے دیگر ارکان بھی جانے لگے تو صدر نے کہاکہ مجھے توقع تھی میری بات سنی جائے گی اور گزشتہ سال کی طرح شورشرابا نہیں کیا جائے گا مگر یہ تو جارہے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کی طرف اشارہ بھی کیا تھا۔ اس دوران پاکستان مسلم لیگ (ن)،پاکستان پیپلزپارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے۔ تینوں جماعتوں کے رہنماؤں نے الگ الگ میڈیا ٹاک کی، اپوزیشن واضح طورپر منقسم نظر آئی۔
میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہاکہ انتہائی عجلت میں اجلاس کا نوٹس جاری کیا گیا۔ اس طرح تو یونین کونسل کے اجلاس کا نوٹس بھی جاری نہیں ہوتا جس طرح پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی اطلاع ٹی وی پر ٹیکرز کے ذریعے دی گئی اور وہ بھی رات کے وقت۔ اپوزیشن نے اسی معاملے پر احتجاج کیا ہے، حکومت نے پارلیمنٹ کے عزت و وقار کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ جمہوری پارلیمانی روایات پر حکومت کی جانب سے سمجھوتہ اور انحراف کیا جارہا ہے، ہم نے احتجاج ریکارڈ کروایا۔ حکومت ہر معاملے میں پسپائی دکھارہی ہے ملک کیسے چلائے گی۔














