
اسلام آباد(ویب ڈیسک)اپوزیشن جماعتوں نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت ایک بھیانک دور سے گزر رہا ہے اور اس حکومت سے جتنا جلدی ہوسکے چھٹکارا پانا ضروری
ہے اور ہم اپنا فرض ادا کرنے کے لیے متحد ہیں۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے واک آؤٹ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رہنما راجا پرویزاشرف نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو دھوکا دینے کی باتیں ہورہی ہیں جو کو کھڑے ہو کر نہیں سن سکتے تھے۔
رہنما پی پی پی نے کہا کہ اگر صدر مملکت جو پورے پاکستان کا صدر ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکن کی طرح ہاں میں ہاں ملانی ہے تو پھر یہ صدر مملکت کا خطاب نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے کسی کارکن کا خطاب ہوسکتا ہے جس میں ایک بات حقیقت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کی خارجہ پالیسی کہاں کھڑی ہے، پاکستان دنیا میں تنہائی کا شکار ہے، شاید پہلی دفعہ ہوا ہے کہ حکومت اور بیوروکریسی، حکومت اور عوام، حکومت اور کاروباری حضرات دو مختلف علاقوں میں کھڑے ہیں جہاں ان کا ایک دوسرے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے بالکل درست فیصلہ کیا، ہمارے پاس دو راستے تھے، ہم وہاں بیٹھ کر وہ تمام باتیں سنتے جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے یا پھر پاکستان کے عوام کو دھوکا دینے کی باتیں وہاں بیٹھ کر سنتے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ جو جھوٹ بولا جائے کیا اس کو سنتے، پاکستان کے صریحاً دھوکا ہورہا ہے، پاکستان کے نوجوانوں، عام لوگوں کے ساتھ دھوکا ہورہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ سب نہیں سن سکتے تھے اس لیے پارلیمنٹ سے باہر آئے ہیں اور عوام کو کہنا چاہتے ہیں کہ یہ جو خطاب ہورہا ہے صرف پارلیمانی ضرورت کے علاوہ اس کی کوئی وقعت نہیں ہے۔
راجاپرویز اشرف نے کہا کہ جو کچھ بھی کہا جارہاہے وہ صریحاً جھوٹ پر مبنی ہے، پاکستان مشکل کا شکار ہے اور ایک بھیانک دور سے گزر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام بہت مجبور قسم کپاکستان بھیانک دور سے گزر رہا ہے، حکومت سے چھٹکارا ضروری ہے،:،خواجہ آصف
اسلام آباد(ویب ڈیسک)اپوزیشن جماعتوں نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت ایک بھیانک دور سے گزر رہا ہے اور اس حکومت سے جتنا جلدی ہوسکے چھٹکارا پانا ضروری ہے اور ہم اپنا فرض ادا کرنے کے لیے متحد ہیں۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے واک آؤٹ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رہنما راجا پرویزاشرف نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو دھوکا دینے کی باتیں ہورہی ہیں جو کو کھڑے ہو کر نہیں سن سکتے تھے۔
رہنما پی پی پی نے کہا کہ اگر صدر مملکت جو پورے پاکستان کا صدر ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکن کی طرح ہاں میں ہاں ملانی ہے تو پھر یہ صدر مملکت کا خطاب نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے کسی کارکن کا خطاب ہوسکتا ہے جس میں ایک بات حقیقت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کی خارجہ پالیسی کہاں کھڑی ہے، پاکستان دنیا میں تنہائی کا شکار ہے، شاید پہلی دفعہ ہوا ہے کہ حکومت اور بیوروکریسی، حکومت اور عوام، حکومت اور کاروباری حضرات دو مختلف علاقوں میں کھڑے ہیں جہاں ان کا ایک دوسرے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے بالکل درست فیصلہ کیا، ہمارے پاس دو راستے تھے، ہم وہاں بیٹھ کر وہ تمام باتیں سنتے جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے یا پھر پاکستان کے عوام کو دھوکا دینے کی باتیں وہاں بیٹھ کر سنتے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ جو جھوٹ بولا جائے کیا اس کو سنتے، پاکستان کے صریحاً دھوکا ہورہا ہے، پاکستان کے نوجوانوں، عام لوگوں کے ساتھ دھوکا ہورہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ سب نہیں سن سکتے تھے اس لیے پارلیمنٹ سے باہر آئے ہیں اور عوام کو کہنا چاہتے ہیں کہ یہ جو خطاب ہورہا ہے صرف پارلیمانی ضرورت کے علاوہ اس کی کوئی وقعت نہیں ہے۔
راجاپرویز اشرف نے کہا کہ جو کچھ بھی کہا جارہاہے وہ صریحاً جھوٹ پر مبنی ہے، پاکستان مشکل کا شکار ہے اور ایک بھیانک دور سے گزر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام بہت مجبور قسم کے حالات سے گزر رہے ہیں اور ہماری جمہوریت کے اوپر بڑے سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں۔
ے حالات سے گزر رہے ہیں اور ہماری جمہوریت کے اوپر بڑے سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں۔





































