عمران خان، حاضر سروس جج سمیت سب کو قانون کا احترام کرنا ہوگا ،مریم نواز

اسلام آباد(ویب ڈیسک )سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ قانون سب کے لئے برابر ہونا

چاہیے،نواز شریف نے خود کو قانون کے سامنے سرنڈر کیا ،عمران خان ہوں،سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج ہوں، سرینا عیسی یا پھر عاصم سلیم باجوہ سب کو قانون کا احترام کرنا ہوگا ،سی پیک کو کوئی خطرہ نہیں یہ ایک انفرادی معاملہ ہے ،عاصم سلیم باجوہ کے معاملے پر وزیر اعظم آگے بڑھیں اوراحتساب کے نعرے کو عملی جامعہ پہنا
ئیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ آمدکے موقع پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے مریم نواز نے کہاکہ اپوزیشن کی اے پی سی میں شرکت کے حوالے سے مسلم لیگ ن نوازشریف کی ہدایات کو فالو کرے گی۔ نواز شریف تین بار اس ملک کے وزیر اعظم رہے لیکن ان پر جھو ٹے مقدمات بنائے گئے۔ جھو ٹ مقدمات ہو تے ہوئے نواز شر یف اور ان کی بیٹی عدالتوں میں پیش ہوسکتی ہے تو عاصم سلیم باجوہ ،عمران خان سمیت ہر کسی کو قانو ن کے سا منے جھکناچاہیے میر ے پا س کو ئی سرکاری عہدا یا پوزیشن نہیں تھی پھر بھی چھ ما ہ ڈیتھ سیل میں گزارے۔
نواز شر یف علاج مکمل اورصحتیاب ہو نے پر وطن واپس آئے گیں۔ مریم نواز نے کہاکہ آج عاصم سلیم باجوہ کے لیے احتساب کا نعرہ کدھر گیا۔ عاصم سلیم باجوہ کے معاملے پر عمران خان آگے بڑھیں۔ ایک سوال پر مریم نواز نے کہاکہ سی پیک کا موجد نواز شریف ہے۔ عاصم سلیم باجوہ کے خلاف انکوائری سے سی پیک کو کوئی خطرہ نہیں ۔یہ ایک انفرادی معاملہ ہے اور عاصم باجوہ کو جواب دینا چاہیے ۔نواز شریف 60ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری ملک میں لایا نواز شریف کو ایک اقامہ پر نکال دیا گیا ۔نواز شریف نے قانون کے سامنے خود کو سرینڈر کیا،قانون کے سامنے سب برابر ہیں،چا ہے۔ سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج ہوں سرینا عیسی یا پھر عاصم سلیم باجوہ ہوں۔
ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ نواز شریف کے خلاف فیصلہ مس کنڈکٹ ہی تھا،ارشد ملک نے خود اعتراف کیا،نواز شریف کا علاج جیسے مکمل ہوگا اور حالت خطرے سے باہر ہوگی پاکستان واپس آئیں گے،قبل ازیں کمرہ عدالت میں غیر رسمی گفتگوکرتے ہوئے مریم نواز نے کہاکہ میرا نہیں خیال نواز شریف صاحب آل پارٹیز کانفرنس میں جانے سے منع کریں گے،ہم آل پارٹیز کانفرنس میں جائیں گے،مکافات عمل تو شروع ہونا ہی تھا،ہر چیز کی اپنی ٹائمنگز ہیں،میں نے تو سوچا تھا کہ حکومت اتنا نیچے آنے میں پانچ سال لے گی، حکومت نے اپنا جو نقصان پانچ سال میں کرنا تھا وہ دو سال میں ہی کر بیٹھی،ہم نواز شریف کی ہدایت پر عمل کرینگے،میاں نواز شریف کا لندن میں علاج چل رہا ہے،میری نواز شریف سے ضد ہو گی کہ جب تک علاج نہیں ہو جاتا واپس نہ آئیں،نواز شریف وطن واپس آنے کے لیے بہت بے چین ہیں،ہمیں اب اپنی اپنی نہیں سوچنی چاہیے۔