ناموس رسالت قانون میں کسی قسم کی ترمیم برداشت نہیں،مولانا فضل الرحمن

پشاور(ویب ڈیسک )جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ناموس رسالت قانون میں کسی قسم کی ترمیم

برداشت نہیں کریں گے، قادیانی آئین پاکستان کے رو سے خود کو غیر مسلم تسلیم کریں،پاکستان میں پہلی بار اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تحریک میں اضافہ ہورہا ہے،آج ہر کوئی اسرائیل کا سفیر بنا ہوا ہے،کہتے ہیں ہم پاکستان کے قانون باہر کے دباو¿ پر نہیں بنائیں گے ۔
دو سال میں کوئی قانون سازی نہیں ہوئی ، آج بیرونی دباﺅپر قانون سازی کی کوشش کی جا رہی ہے ۔پشاور میں ختم نبوت جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ جو شخص ختم نبوت کا ارتکاب کرتا ہے تو کیا یہ قانون کو ہاتھ میں لینا نہیں ہے، جو وکلاءفیصل خالدکا مقدمہ لڑ رہا ہے اس کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، قادیانی آئین پاکستان کے رو سے خود کو غیر مسلم تسلیم کریں،آرمی چیف ملازمت توسیع کے علاوہ دو سال میں کوئی قانون سازی نہیں ہوئی، ناموس رسالت قانون میں کسی قسم کی ترمیم برداشت نہیں کریں گے۔ پاکستان میں پہلی بار اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تحریک میں اضافہ ہورہا ہے، آج ہر کوئی اسرائیل کا سفیر بنا ہوا ہے۔
مولانا فضل الرحمن کاکہنا تھا کہ ناموس رسالت و اسلامی دفعات پر تمام مکاتب فکر متفق ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سفارشات پربھی سب متفق ہے ، سر بازار صحابہ کی توہین کے پیچھے کون ہے جانتے ہیں، انکاکہنا تھا کہ امریکہ و یورپ فوجی مہم جوئی و قبضہ کرنا چاہتے ہیں، مسلکی جنگ مکاتب فکر کی ضرورت و خواہش نہیں، تاہم عمران خان کے مفاد میں ہیں کہ مسلکی بنیاد پر لوگ آپس میں لڑیں اور وہ حکومت کرے، ہم پاکستان کے قانون باہر کے دباو¿ پر نہیں بنائیں گے ، دو سال میں کوئی قانون سازی نہیں ہوئی ، آج بیرونی دباﺅپر قانون سازی کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کپا کہ موجودہ حکمرانوں نے ایسے ایسے قوانین پاس کئے جو آج پاکستان خودمختار ریاست نہیں رہا، اگر آج اقوام متحدہ قانون یا قرارداد پاس کرے کہ ناموس رسالت قانون انسانی حقوق کے خلاف ہے تو یہ لوگ کیا کرینگے، عمران سن لیں دباﺅہر حکومت پر آیا ہے آپ نے توہین رسالت کے مرتکب خاتون کو فخر سے باہر بھیجا ،آپ کو ڈیوٹی دی ہے ،لیکن سن لو ہاتھ نہیں گردن بھی مروڑ لیں گے۔