لائسنس نہ رکھنے والی نجی کمپنیوں کو گیس فراہمی معطل کر دی جائے، اوگرا کا حکم

اسلام آباد(ویب ڈیسک) آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) وزارت پٹرولیم میں اربوں روپے کی کرپشن روکنے کے لئے سرگرم ہو گیا

ہے اور سیکرٹری پٹرولیم کو حکم دیا ہے کہ لائسنس کے بغیر نجی کمپنیوں کو گیس کر فراہمی کی سپلائی فوری معطل کر دی جائے اور ہدایت نامہ پر نہ عمل کرنے والی پٹرولیم کمپنیوں کے خلاف تادیبی کاروائی بھی عمل میں لائی جائے۔
منگل کے روز اوگرا کی طرف سے جاری ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وزارت پٹرولیم کی تمام گیس پروڈکشن کمپنیاں لائسنس کے بغیر کسی نجی کمپنی کے ساتھ کم پریشر گیس کی فروخت کا معاہدہ نہ کرے اور جو معاہدے ہو چکے ہیں ان کو فوری منسوخ کیا جائے۔
اوگرا نے یہ ہدایت نامہ او جی ڈی سی ایل سے پاکستان پٹرولیم لمٹیڈ، ماری گیس پاکستان آئل فیلڈز نامی کمپنیوں کو جاری کیا ہے کیونکہ اوگرا کے نوٹس میں آیا ہے کہ وزارت پٹرولیم کے اعلیٰ حکام اور پٹرولیم کمپنیوں کے سربراہ نجی کمپنیوں کے ساتھ سازباز کرکے اربوں روپے کی گیس ان کمپنیوں کو فروخت کر رہے ہیں جن کے پاس اوگرا کے لائسنس نہیں ہیں اور ان نجی کمپنیوں کے مالکان کے خلاف اربوں روپے کی کرپشن کے پہلے ہی نیب میں مقدمات کی اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات جاری ہیں۔
پاکستان کی دوسری بڑی کمپنی پاکستان پٹرولیم لمٹیڈ(پی پی ایل) ہے جس کے ایم ڈی کے خلاف ایک تحقیقاتی ادارہ نے کرپشن کی تحقیقات شروع کی ہیں اور معلومات کی روشنی میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا ایم ڈی نے لائسنس نہ رکھنے والی کتنی نجی کمپنیوں کو فلئیر گیس یا کم پریشر فروخت کی تھی اور اس دھندہ میں ایم ڈی نے کتنی دولت کمائی ہے اور اپنے اثاثوں میں کتنا اضافہ کیا ہے جبکہ ایم ڈی ایک فرضی خط کی بناءپر نجی کمپنیوں کو فلئیر گیس فروخت کر چکے ہیں۔