مشترکہ مفادات کونسل، بچوں کی گروتھ میں کمی دور کرنے کے منصوبے کی منظوری

اسلام آباد ( ویب ڈیسک،خبر ایجنسی)مشترکہ مفادات کونسل نے بچوں کی گروتھ میں کمی کو دور کرنے کے لئے 350 ارب روپے پانچ

سالہ منصوبے کی منظوری دیدی ،50 فیصد وفاق اور 50صوبائی حکومتیں برداشت کریں گی ،توانائی سے متعلق وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازع حل کرنے کے لئے کونسل کا اگلا اجلاس جنوری میں ہوگا ۔صوبوں اور وفاق کے درمیان پانی کی تقسیم کا تنازع بھی کونسل کے اجلاس میں حل نہ ہو سکا اس پر اتفاق رائے کے لئے اگلے اجلاس میں غور کیا جائیگا۔
مشترکہ مفادات کونسل کا 43 واں اجلاس وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا جس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلی اور کونسل کے اراکین نے شرکت کی ۔ترجمان وزیر اعظم آفس کے مطابق اجلاس کے دوران اس بات کا سخت نوٹس لیا گیا کہ بچوں کی گروتھ خوراک میں کمی کی وجہ سے رک گئی ہے لہذا کونسل نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا کہ ایک خصوصی ترقیاتی منصوبہ شروع کیا جائے تا کہ پاکستان میں بچوں کی شرح نمو میں اضافہ ہو اور وہ صحت مند زندگی گزاریں۔
پانچ سالہ منصوبے پر 350ارب روپے خرچ ہوں گے اس میں سے پچاس فیصد وفاقی حکومت فراہم کرے گی جبکہ باقی 175 ارب صوبائی حکومتوں میں برابر کا تقسیم کیا جائیگا اور 50 فیصد صوبے دیں گے ۔بچوں کی نیوٹریشن کے عمل کو بہتر بنا نے کے لئے پانچ سالوں کے دوران تیس فیصد آبادی کو ٹارگٹ کیا جائیگا جس میں ڈیڑھ کروڑ خواتین اور 39 لاکھ دو سال سے کم عمر کے بچے شامل ہوں گے ۔
اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ وفاقی حکومت نیوٹریشن کے لئے سپلیمنٹری کموڈیٹیز فراہم کرے گی تا کہ نئے اور موجودہ ہیلتھ کیئر ورکرز،ریسرچر کی صلاحیتیں بہتر ہوں ۔اس سارے عمل میں موجودہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کمیونٹی کو شامل کیا جائیگا تا کہ بہتر مانیٹرنگ ہو ،آبادی کی نشاندہی ہو،ادارہ جاتی بندوبست اور ڈیٹا شیئرنگ بھی ہو سکے ۔تیل و گیس کی تلاش کے حوالے سے خیبر پختونخواہ کی حکومت کو ایک بلاک کی سویپ کی اجازت دی گئی مگر یہ اجازت صرف ایک بار ہی ہوگی ۔کونسل نے اپنے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا ۔
ملک میں توانائی کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے فیصلہ کیا گیا کہ کونسل کا اگلہ اجلاس اگلے سال کے شروع میں بلایا جائیگا تا کہ بجلی ،گیس و ایندھن کی قیمت اور اخراجات کا بھی تعین ہو اور پانی سے متعلق معاملات کو بھی حل کیا جا سکے
۔وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی سے متعلق مسائل کے قومی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یہ ناگزیر ہے کہ اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے اور ایسا اتفاق رائے ہو اس میں سب کا فائدہ ہو تا کہ پاکستان کی عوام کو فائدہ مل سکے۔