کورونا کیسزاورشرح اموات بڑھ گئی،احتیاط نہ کی تواسپتال بھرجائیں گے:وزیر اعظم

اسلام آباد( ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں کورونا کی دوسری

لہر تیزی سے پھیلتی دیکھی جاسکتی ہے،پاکستان میں بھی کورونا کیسز اور شرح اموات میں اضافہ ہوگیا ہے اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو ہمارے ہسپتالوں میںماہ جون جیسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے، اس لئے قوم سے گزارش ہے کہ اس وقت ہمیں سب سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے اگر ایس او پیز پر عمل نہ ہوا تو صورتحال بے قابو ہوسکتی ہے،، کسی بھی اجتماع میں تین سو سے زائد لوگ جمع نہ ہوں۔ ہم نے رواںہفتے کو شیڈول جلسہ منسوخ کر دیا، دیگر جماعتیں بھی جلسے نہ کریں، اسکولوں کو بند کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ آئندہ ہفتے کریں گے۔
اسلام آباد میں کووڈ 19 کی ملک میں صورت حال سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میںوزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں کورونا کی دوسری لہر تیزی سے پھیلتی دیکھی جاسکتی ہے،پاکستان میں بھی کورونا کیسز اور شرح اموات میں اضافہ ہوگیا ہے اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو ہمارے ہسپتالوں میںماہ جون جیسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے اس لئے قوم سے گزارش ہے کہ اس وقت ہمیں سب سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے اگر ایس او پیز پر عمل نہ ہوا تو صورتحال بے قابو ہوسکتی ہے۔
وزیراعظم نے کہاکہ اجلاس میں بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کا جائزہ لیا گیا ، پوری دنیا میں کورونا کی دوسری لہر جاری ہے۔ امریکہ،انگلینڈ اوردوسرے ملکوں میں کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اس سے قبل کورونا کے دوران پاکستان پر اللہ کا خاص کرم رہا۔ ہم اس تباہی سے محفوظ رہے جو ایران یا دیگر ممالک میںہوئی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے بہتر حکمت عملی سے شرح اموات میں اضافے اور معاشی تباہی سے ملک کو بچالیا۔ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پچھلے دنوں میں چارگنا کورونا کیسز بڑھ چکے ہیں اور پاکستان میں کورونا سے اموات کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ پہلی کورونا لہر میں روزانہ 7 اموات ہورہی تھیں اب بڑھ کر 25 ہوچکی ہیں ۔ اگر ہم نے احتیاط نہ کی اور ایس او پیز پر عمل نہ کیا تو ڈر ہے جس تیزی سے ہسپتالوں میں مریض پہنچ رہے ہیں ہسپتالوں میں گنجائش نہیں رہے گی اور ہسپتالوں کا وہ حال ہوگا جو جون میںہوا تھا ۔ کورونا کی دوسری لہر پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے پاکستان کی نسبت بھارت اور ایران میں حالات زیادہ خراب ہیں۔ لہذا میری قوم سے گزارش ہے کہ احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔
۔