
اسلام آباد(ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی)سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی انتقال کرگئے،
سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں وزیراعظم منتخب ہوئے تھے ۔ بلوچستان سے سینیٹر ثناءجمالی نے ان کی موت کی تصدیق کی ہے۔مرحوم وزیراعظم نے کئی سیاسی نشیب و فراز دیکھے ہاکی کے بہترین کھلاڑی بھی رہے پیپلزپارٹی سے سیاسی سفر کا اغاز کیا ۔
سابق وزیراعظم میرظفر اللہ جمالی طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے ان کی عمر76برس تھی ۔ یکم جنوری 1944ءکو پیدا ہوئے اور2دسمبر2020ءمیں انتقال کرگئے۔2003ءکے انتخابات میں بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے پر وزیراعظم بنے، سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے ساتھ نبھ نہ سکی اور ان کی جگہ شوکت عزیز کا بحیثیت وزیراعظم انتخاب کیا گیا اور عبوری مدت کیلئے مسلم لیگ(ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین وزیراعظم رہے۔ میر ظفر اللہ جمالی ان دنوں اے ایف آئی سی میں داخل تھے اور وینٹی لیٹر پر تھے۔
سینیٹر ثناءجمالی نے اپنے نانا کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ میر ظفر اللہ جمالی اس دنیا میں نہیں رہے۔ ملک کی اعلیٰ قیادت سمیت دینی، سیاسی جماعتوں کے قائدین ،ارکان پارلیمنٹ، قوم پرست جماعتوں کے رہنماﺅں نے اظہار تعزیت کیا ہے۔ ظفر اللہ جمالی نے 1970ءمیں سیاسی کیریئر کا آغاز کیا اور پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے۔ 1970کے انتخابات میں پہلی بارحصہ لیا، جبکہ1977کے عام انتخابات میں بلوچستان اسمبلی کے رکن رہے اور صوبائی کابینہ کا حصہ رہے۔1977ءکے مارشل لاءکے بعد جنرل ضیاءالحق کی حمایت کردی اور انہیں وزیر مملکت تعینات کیا گیا۔ 1985کے غیر جماعتی انتخابات میں پھر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ان کا حلقہ انتخاب نصیر آباد ہے۔ جونیجو کابینہ کا حصہ رہے اور وفاقی وزیر پانی و بجلی رہے۔ 1988 میں ظفر اللہ جمالی نگران وزیراعلیٰ بلوچستان رہے، ظفر اللہ جمالی روجان علاقہ کے سیاسی خانوادہ تھے انہوں نے ابتدائی تعلیم لارنس کالج مری سے حاصل کی، ایچی سن کالج سے اے لیول کیا، گریجویشن گورنمنٹ کالج لاہور سے کی۔
پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔1993ءکے عام انتخابات میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔ 1994 سے 1997ءتک سینیٹ کے رکن رہے اور دوبارہ نگران وزیراعلیٰ بلوچستان رہے۔ وزیراعظم پاکستان کے منصب پر 23نومبر 2002ءکو تعینات کیے گئے ۔ وزیراعظم کے انتخاب میں انہوں نے 188 ووٹ حاصل کیے ان کے انتخاب میں کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے پیپلزپارٹی کو توڑا گیا اور پیٹریاٹ بنائے گئے۔
ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ پہلی سیاسی شخصیت تھے جو بلوچستان سے وزیراعظم منتخب کیے گئے۔ وہ 2013میں بھی رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور پاکستان مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے، پاکستان مسلم لیگ ن کو چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوگئے تھے۔26 جون 2004ءکو وزارت عظمیٰ کے منصب سے مستعفی ہوگئے۔ وہ بہترین ہاکی کے کھلاڑی تھے اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بھی رہے۔ صدر وزیراعظم وفاقی وزراء نے سابق وزیر اعظم پاکستان اور زیرک سیاستدان ظفراللہ جمالی کے انتقال پرگہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیاہے ۔














