
اسلام آباد (ویب ڈیسک)قومی اسمبلی نے اینٹی منی لانڈرنگ بل 2020کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔ اپوزیشن کی طرف سے بل
کی مخالفت کی گئی اینٹی منی لانڈرنگ بل ڈاکٹر بابر اعوان نے پیش کیا اس پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما و سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اس بل میں گرفتاری کا اختیار کسی تحقیقاتی ادارے کو دے دیتے ہیں تو یہ ظالمانہ قانون بن جائے گا۔یہ کا
لا قانون ہم انسانی حقوق کو نظرانداز کرکے کیوں بنا رہے ہیں۔بغیر وارنٹ کے کسی کو گرفتاری کا اختیار دے دینا غلط ہے۔منی لانڈرنگ کو بھی اس قانون کے ذریعے نیب کو بھیجا جارہا ہے۔ راجہ پرویزاشرف نے کہا کہ جب سپریم کورٹ بھی نیب پر نالاں ہے۔
اپوزیشن اینٹی منی لانڈرنگ کے اس بل کی مخالفت کرتی ہے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ جو ترامیم حکومت اس بل میں پیش کررہی ہے اکثر وہ اپوزیشن کی پیش کردہ ہیں۔ہم قومی سلامتی کی خاطر بلز کو سپورٹ کرتے ہیں تو حکومت این آراو کے الزامات لگا دیتی ہے۔تین ترامیم اب بھی ہماری نہیں لی گئیں۔ہمارے تین نکات ہیں عاملہ میں ثبوت دینے کی ذمہ داری الگ ہے نیب میں الگ ہے شاہنواز رانجھا نے کہا کہ نیب میں ثبوت دینا ملزم کی ذمہ داری ہے حکومت اس قانون میں نیب کی طرح بار ثبوت ملزم پر ڈالنا چاہتی ہے۔
اس پر وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ پاکستان کی قومی سلامتی کی قانون سازی پر کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کریں گے قومی سلامتی کا ایک تاریخی حوالہ وہ ہے جب بھارتی قومی سلامتی کا مشیر بغیر ویزہ پاکستان آیابھارتی قومی سلامتی مشیر بغیر قومی سلامتی کے اداروں کی کلیئرنس کے پاکستان آیا۔
عاملہ اور نیب کا بار ثبوت اس بل میں بھی الگ الگ ہے اس پر خواجہ آصف نے کہا کہ اکثر اوقات قانون سازی پر اتفاق رائے ہوتا رہا۔یہ اچھا پارلیمانی تجربہ ہے کہ ایک بل سامنے آتا ہے جس پر سب مشاورت کرلیتے ہیں ایف اے ٹی ایف قومی سلامتی کا معاملہ ہے،یہ اعتراف ہے کل شہزاد اکبر نے سیکیورٹی اداروں کو محکمہ زراعت کہہ دیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہم نیب کو تالا نہیں لگانا چاہتے نیب قانون کو متوازن کرنا چاہتے ہیں۔اللہ کے ناموں کے نیچے کھڑے ہوکر کہہ رہے ہیں ہم نیب قانون کو منسلک نہیں کررہے خواجہ آصف اسپیکر قومی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سپیکر صاحب آپ بتائیں کیا نیب قانون متوازن ہے آپ کے گھر میں سیاسی جماعتیں اچھے تعاون کی بڑھ رہی تھیں۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میں اپنے الفاظ واپس لے لونگا مگر وزیر وعدہ کریں وہ سچ بولیں گے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سچ کی بات کریں گے تو بہت سی باتیں کھل جائیں گی بہتر ہے کچھ چیزوں پر پردہ رہنے دیں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ و زیر صاحب بہتر ہے آپ سچ بولیں انہوں نے کہا کہ ایک غیر منتخب اور کرایے کے وزیر کو بلا کر اس ایوان کی تضحیک کی گئی اپوزیشن لیڈر پر الزام عائد کئے گئے، یہ الفاظ حذف کیے جائیں نیب کا اطلاق پورے ملک پر ہوتا ہے مگر یہاں نیب کا اطلاق صرف ایوان میں بیٹھے لوگوں پر ہوتا ہے نیب ایک کالا قانون ہے، منی لانڈرنگ کے قانون میں نیب کو شامل نہ کیا جائے دہرے قوانین نافذ نہ کریں۔۔بعدازاں قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا۔














