سال 2025 دہشت گردی کے خلاف جنگ کا فیصلہ کن ثابت ہوا، 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں پیش آئے: آئی ایس پی آر

راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ سال 2025 دہشت

گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ میں ایک تاریخی اور نتیجہ خیز سال رہا۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں پیش آئے، جس کی ایک بڑی وجہ وہاں دہشت گرد عناصر کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جانا ہے۔

راولپنڈی میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس بریفنگ کا مقصد 2025 میں دہشت گردی کے خلاف کی گئی کارروائیوں اور سیکیورٹی صورتحال کا جامع جائزہ پیش کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جدوجہد ہے۔

سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ گزشتہ سال سیکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے۔ اس کے باوجود دہشت گردی کے 5 ہزار 400 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور شہریوں سمیت 1,235 افراد شہید ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778 جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں 1 ہزار 739 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سیکیورٹی فورسز پورے ملک میں متحرک اور الرٹ ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 2025 کے دوران مجموعی طور پر 27 خودکش حملے کیے گئے، جن میں سے 80 فیصد خیبر پختونخوا میں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد خوارج ہیں اور ان کا اسلام، پاکستان یا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں،انہوں نے دہشت گردی کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 2021 میں دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا، جس کی ایک بڑی وجہ افغانستان میں سیاسی تبدیلی اور دوحہ معاہدہ تھا۔ اس معاہدے کے تحت افغان حکام نے افغان سرزمین کو دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے دینے اور خواتین کی تعلیم کو یقینی بنانے کے وعدے کیے تھے، تاہم زمینی حقائق ان وعدوں کے برعکس ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فتنہ الخوارج اور فتنۂ ہندوستان کی اصل آماجگاہ اب افغانستان بن چکی ہے، جہاں متعدد دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں اور انہیں منظم انداز میں پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے، جس میں پوری قوم اور ریاستی ادارے یکجا ہیں، اور عالمی برادری نے بھی پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیاسی ہم آہنگی اور قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق اس عزم کی علامت ہے، تاہم اس پر بلاامتیاز اور مؤثر عملدرآمد کے بغیر دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جعفر ایکسپریس پر حملے میں 21 بے گناہ شہریوں کو شہید کیا گیا، جبکہ نوشکی میں بس پر حملے اور کیڈٹ کالج وانا پر اے پی ایس طرز کے حملے کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا تھا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے انکشاف کیا کہ دہشت گردی کی مختلف وارداتوں میں اب تک 410 کواڈ کاپٹر ڈرونز استعمال ہو چکے ہیں، جبکہ آئی ای ڈیز اور جدید ہتھیار بھی دہشت گردوں کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں۔ ان چیلنجز کے باوجود سیکیورٹی فورسز ہر محاذ پر مکمل طور پر تیار ہیں۔

بھارت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ بھارت کو کسی پاکستانی کے لیے سزا کا تعین کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے اور کسی بیرونی طاقت کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ خودساختہ انصاف کا کردار ادا کرے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کے پاس پاکستان کے خلاف کوئی ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے جائیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ معرکۂ حق کے دوران بھارت کو عبرتناک شکست دی گئی اور دشمن کو واضح پیغام دے دیا گیا کہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ آپریشن سندور کے دوران بھارتی فورسز نے خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ پاکستان کی کارروائیاں صرف دہشت گردوں اور مخصوص اہداف تک محدود رہیں۔آخر میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر 2026 میں بھارت اور افغانستان مل کر پاکستان کے خلاف کسی مہم جوئی کا ارادہ رکھتے ہیں تو وہ کھل کر سامنے آ جائیں۔ پاکستان ہر قسم کے چیلنج کے لیے تیار ہے، چاہے وہ سرحدوں پر ہو یا میڈیا کے محاذ پر۔