
اسلام آباد (ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی، فوٹو:فائل ) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 30 مئی تک پیاز کی برآمد پر پابندی عائد کرتے
ہوئے آنے والے سیزن کے لئے 8.25 ملین ٹن گندم کی 1365 روپے فی من کے حساب سے خریداری کی اجازت دیدی ہے، ضرورت پڑنے پر مزید پانچ لاکھ ٹن گندم کی درآمد کی اجازت دی جائے گی، اجلاس میں خیبرپختونخوا کے لئے ایک لاکھ ٹن اور سندھ کے لئے پاسکو کے گوداموں سے پچاس ہزار ٹن اضافی گندم کی فراہمی کی اجازت بھی دی گئی۔
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ٓ یہاں وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزارت توانائی کی جانب سے تریموں بیراج کے قریب 1263.2 میگاواٹ آر ایل این جی کی بنیاد پر پاور جنریشن پراجیکٹ کی سمری کا جائزہ لیا گیا۔ یہ پراجیکٹ تھرمل پاور پرائیویٹ لمیٹڈ کر رہی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایس این جی پی ایل کو جہاں اور جیسے ہے کی بیناد پر جی ایس اے پر دستخط کرنے کی اجازت دیدی۔
اجلاس میں نیا پاکستان ہاﺅسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے لئے 451.681 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں افغان پناہ گزینوں کے پراجیکٹ کے لئے وزارت منصوبہ بندی و ترقی کے لئے 110 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں سابق فاٹا، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد کیپیٹل ٹریٹری کے اساتذہ اور تربیتی اداروں کی استعداد کار میں بہتری کے لئے 5.9 ملین روپے تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 30 مئی تک پیاز کی برآمد پر پابندی عائد کر دی۔ اجلاس میں امپورٹ پالیسی آرڈر 2016 (ایس آر او 2371/2019) میں ترمیم کی بھی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں برآمدات پر مبنی صنعتوں کی تصحیح کی گئی اور وزارت خزانہ سے کہا گیا کہ وہ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے کلیم کی موصولی کے بعد 14 روز کے اندر سبسڈی ریلیز کرے۔ اجلاس میں کنٹرول کیمیکل کی درآمد کی بھی اجازت دی گئی۔ ان میں ایسیٹون، انتھراکٹک ایسڈم ہائیڈرو کلورک ایسڈ اور سلفیورک ایسڈ شامل ہیں۔ اجلاس میں آنے والے سیزن کے لئے 8.25 ملین ٹن گندم کی 1365 روپے فی من کے حساب سے خریداری کی بھی اجازت دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ضرورت پڑنے پر مزید پانچ لاکھ ٹن گندم کی درآمد کی اجازت دی جائے گی۔
اجلاس میں خیبرپختونخوا کے لئے ایک لاکھ ٹن اضافی اور سندھ کے لئے پاسکو کے گوداموں سے پچاس ہزار ٹن اضافی گندم کی فراہمی کی اجازت بھی دی گئی۔














