وزیراعظم سے برطانوی آل پارٹیز پارلیمانی کشمیرگروپ کے وفد کی ملاقات

اسلام آباد (ویب ڈیسک ،خبرایجنسی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارتی قیادت کی جانب سے جنگی جنون اور زمینی جارحانہ

اقدامات سے امن اور سلامتی کیلئے خطرات پیدا ہوئے ہیں، جموں و کشمیر کے مسئلہ کے منصفانہ حل سے ہی جنوبی ایشیاءمیں امن، سلامتی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے

 یہ بات انہوں نے بدھ کو یہاں برطانوی پارلیمان کے آل پارٹیز پارلیمانی کشمیرگروپ ( اے پی پی کے جی) کے وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

وفد کی قیادت ڈیبی ابراہم کر رہی تھیں۔ آل پارٹیز پارلیمانی کشمیرگروپ ( اے پی پی کے جی) برطانیہ کی پارلیمان میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان پرمشتمل ہے۔وزیراعظم عمران خان نے گروپ کی جانب سے جموں وکشمیر کے تنازعہ پر توجہ دینے پر گروپ کو سراہا اورکہاکہ گروپ نے قبل ازیں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر رپورٹیں مرتب کی ہیں۔

وزیراعظم نے وفد کو بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019ءکو اٹھائے جانیوالے یکطرفہ اورغیرقانونی اقدامات اوراس کے نتیجہ میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں اورانسانی المیہ جیسی صورتحال سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ 80 لاکھ کے قریب کشمیری گزشتہ 6 ماہ سے فوجی محاصرے میں ہیں۔

انہوں نے کہاکہ بھارت کی قیادت کی جانب سے جنگی جنون اور زمینی جارحانہ اقدامات سے امن اورسلامتی کیلئے خطرات پیدا ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آر ایس ایس کے نظریہ سے متاثرہ بی جے پی کی حکومت ہندوتوا کے نظریہ پر گامزن ہے، اس نظریہ کے تحت ایک طرف کشمیری مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیاہے جبکہ دوسری طرف بھارت میں رہنے والی اقلیتوں کیلئے زمین تنگ کردی گئی ہے۔

وزیراعظم نے کہاکہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال سے بین الاقومی برادری کی توجہ ہٹانے کیلئے بھارت فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ جموں وکشمیر کے مسئلہ کے منصفانہ حل سے ہی جنوبی ایشیاءمیں امن ، سلامتی اوراستحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔