کرونا وائرس: 34مسافر ٹرینوں کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، شیخ رشید

اسلام آباد( ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی ) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے بچنے

کے لئے 34مسافر ٹرینوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، 12ٹرینیں 22مارچ سے بند کر دی جائیںگی اور باقی یکم اپریل سے بند کی جائیںگی، اگر کوئی اپنی ٹکٹ واپس کروانا چاہتا ہے تو اسے سو فیصد ریفنڈ کی جائے گی اور جو کسی دوسری ٹرین میں سفر کرنا چاہے تو وہ اسی کلاس میں سفر کر سکتے ہیں،۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریلوے کے پاس جو آلات دستیاب ہیں اسی سے ا سکیننگ کی جارہی ہے، ملک کو لاک ڈاﺅن نہیں کیا جائے گا ،جن ممالک نے لاک ڈاﺅن کیا ان کو خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔میں پیر اور جمعہ کو لال حویلی میں کچہری لگایا کروں گا۔موت کا ایک دن مقرر ہے عزت ، ذلت سب اللہ کے اختیار میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد فیصلہ کیاگیا ہے کہ کرونا سے بچاﺅ کے لئے 34مسافر ٹرینوں کو بند کیاجائے۔ ریلوے پر سات کروڑ سالانہ مسافر سفر کرتے ہیں۔ دو لاکھ روزانہ سے کم ہو کر ایک لاکھ ساٹھ ہزار ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرینوں کے سٹاپ بڑھا دئیے گئے ہیں، کراچی میں لانڈھی، ملیر ، ڈرگ روڈپر تمام ٹرینیں رکا کریں گی جبکہ راولپنڈی کی تمام ٹرینیں چکالہ ریلوے سٹیشن پر رکیں گی۔ 22مارچ سے 12ٹرینیں بند کر دی جائیں گی اور جو ٹرینیں بند ہونگی ان کے مسافر اگر اپنی ٹکٹ واپس کرنا چاہیں تو سو فیصد رقم واپس ملے گی ۔
شیخ رشید نے کہا کہ اگر کسی اور ٹرین پر سفر کرنا چاہیں تو اسی کلاس میں سفر کرسکیں گے جس کا ٹکٹ حاصل کیا ہے۔134ٹرینیں روزانہ چلتی ہیںجبکہ مال بردار ٹرینیں 12سے 15چلتی ہیں۔ راولپنڈی ، لاہور ، کراچی ، پشاور کے ریلوے سٹیشنوں کو صاف کیا جارہا ہے اور ہمارے پاس جوا سکیننگ کے آلات موجود ہیں انہی سے اسکیننگ کی جارہی ہے، سندھ حکومت کی طرف سے بھی ٹرینیں کم یا بند کرنے کی ڈیمانڈ تھی لیکن ہم اگر ساری ٹرینیں بند کردیں تو ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ اتنے بڑے سسٹم کو چلا سکیں،ہم جو کماتے ہیں وہ سب ریلوے پر ہی خرچ کرتے ہیں، کرونا وائرس پوری دنیا کے لئے بوجھ بن گیا ہے اور ہم بھی اس کی لپیٹ میں ہیں