سندھ :مسیحاؤں کی ہڑتال،4روزمیں11افرادجان سےگئے

کراچی(رنگ نوڈاٹ کام )کراچی سمیت اندرون سندھ میں مسیحاؤں کی ہڑتال جاری ہے،4روزکی 

ہڑتال کےدوران اموات کی تعداد 11افرادہوگئی ہے

شہر قائد میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کےسبب لاکھوں مریض رل گئے۔دو بچوں کی طبعی اموات پرلواحقین غم میں و غصہ پھیل گیا۔دادومیں مسیحاؤں کی بےحسی سےدل کے علاج کیلئے لائی گئی خاتون دم توڑگئی،سکھر میں 6ماہ کا بچہ چل بسا،علاج کےاصرارپر ڈاکٹرنےخاتون کو تھپڑرسید کردیا۔

مریضوں کےلواحقین نےڈاکٹروں کی بےحسی پرشدیداحتجاج کیاہے،ادھرلواحقین کاکہنا ہےکہ بچوں کی موت ڈاکٹرزکی عدم دستیابی کے سبب ہوئی، اس موقع پر غم و غصے سے بھرے افراد نے اسپتال میں توڑ پھوڑبھی کی۔

ادھرسول اسپتال دادومیں ڈاکٹروں کےاحتجاج کےباعث حنیفہ نامی خاتون جان بحق ہوگئی، خاتون کو دل کے وارڈ میں لایا گیاتھا، جہاں ڈاکٹرڈیوٹی کی بجائے ہڑتال پرتھے،خاتون کا بروقت علاج نہ ہوسکا جس سے وہ چل بسی،مقتولہ کےوالد نوردین پنڈ کا کہنا تھا کہ کی ان کی بیٹی ڈاکٹروں کی غفلت سے جاں ،دوروزمیں 3خواتین اور3بچےجاں بحق ہوچکے ہیں۔

خیرپورناتھن شاہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی ہونے والادودن زخموں کی تاب نہ لاتےہوئےچل بسا جسے پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال لایاگیاجہاں کوئی ڈاکٹرموجود نہیں تھا۔مقتول کے ورثانے لاش کے ہمراہ 4گھنٹے احتجاج کیا اورڈاکٹروں کے خلاف نعرےبازی کی۔دوسری جانب سےایم اے ایس ڈاکٹر عبدرزاق کاکہنا تھا کہ دادو سول اسپتال میں صرف او پی ڈی بند ہیں۔ انہوں نےکہاکہ مقتول کا پوسٹ مارٹم کیاجارہاہے،خاتون حنیفہ اسپتال آنےسے قبل چل بسی تھی۔

سکھرکےڈاکٹرز کی جانب سے ہڑتال کےنام پرمبینہ بد تمیزی اورمریضوں سےتلخ کلامی کاسلسلہ جاری رہا،گزشتہ روز ڈاکٹروں کی بےحسی کاشکار ہونے والا چھ ماہ کے بچے کی ہلاکت کے بعدعلاج معالجےپراصرار کرنے والی خاتون کو ڈاکٹر نے تھپڑ رسیدکردیا۔

خاتون کرن شیخ کےمطابق ڈاکٹر کی جانب سےمسلسل بدتمیزی کی ورثانےاحتجاج کرتےہوئےکہاکہ سندھ حکومت اورڈاکٹروں کی بےحسی نے انسانیت اور مسیحا کے روپ سے پردہ اٹھادیا۔ڈاکٹرقوم پررحم کریں۔