شہباز شریف خاندان کے اثاثوں میں 70 فیصد اضافہ ہوا


اسلام آباد ( ویب ڈیسک،خبر ایجنسی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے قومی احتساب

بیورو (نیب) سے مطالبہ کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف خاندان کی گڈ نیچر ٹریڈنگ (جی ایم سی) کمپنی کے خلاف تحقیق کریں جس کے تحت اربوں روپے کی جعلی ٹی ٹیز کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی،شہبازشریف کے اثاثوں میں 10سال میں 70 گنا اور بیٹے سلمان شہباز کے اثاثوں میں 8ہزار گنا اضافہ ہوا۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر مواصلات و پوسٹل سروز مراد سعید کے ہمراہ پریس کانفرنس میں شہزاد اکبر نے کہا کہ شہباز شریف خاندان کے اثاثوں میں گزشتہ 10 برس میں 70 فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے ایک جی ایم سی کمپنی کی 'کاغذی کمپنی کی آڑ میں رقوم کی غیرقانونی نقل و حرکت سے متعلق چارٹ بھی دکھائے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ شریف خاندان کے اثاثوں کی تفتیش کی گئی تو جی ایم سی کمپنی کا انکشاف ہوا جس میں 200 سے زائد جعلی ٹی ٹیز کے ذریعے رقوم کی ہیرا پھیری کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ جعلی ٹی ٹیز کے ذریعے بیرون ملک سے آنے والی دولت کو جائز قرار دینے کے لیے اقدامات کیے گئے شریف خاندان نے معصوم اور غریبوں شہریوں کے نام پر اربوں روپے کی جعلی ٹی ٹیز بنوائی۔معاون خصوصی برائے احتساب نے بتایا کہ مذکورہ جعلی ٹی ٹیز کے ذریعے 20 سے 22 چھوٹی کمپنیوں کاائماپر کھڑا کیا گیا منی لانڈرنگ سے متعلق نیا انکشاف کاتعلق اتفاق گروپ نہیں تھا۔
انہوں نے جی ایم سی نامی کمپنی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا مذکور کمپنی کے تین ڈائریکٹرز تھے جن میں نثار احمد گل، ملک علی احمد اور طاہر نقوی شامل تھے شہباز شریف نے 2009 سے نثار احمد گل کو چیف منسٹر ہاؤس ڈائریکٹر پولیٹیکل افیئر مقرر کیا،شہباز شریف نے ملک علی احمد نامی شخص ڈائریکٹر پالیسی اور طاہر نقوی کو بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا گیا اور جب طاہر نقوی کی تفیش کی گئی تو اس کا اسسٹنٹ جنرل ایڈمن شریف گروپ آف کمپنیز سے تھا نثار احمد گل نیب کی حراست میں ہے اور انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ جی ایم سی محض کاغذی کمپنی تھی اور اس کو سلمان شریف چلاتے تھے شہزاد اکبر نے بتایا کہ کمپنی کے زیر حراست دو کیش بوائز نے بھی جعلی ٹی ٹیز کا اعتراف کرلیا ہے۔