خطے کا امن افغان امن سے وابستہ ہے، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد (ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اقتصادی سفارتکاری ہماری

اولین ترجیحات میں شامل ہے، روس کے ساتھ تعاون کی نئی راہیں کھل رہی ہیں، ہم نے ایف اے ٹی ایف میں گرے سے بلیک لسٹ میں دھکیلنے سے متعلق بھارت کی سازش کو ناکام بنا دیا، چین ہمارا مضبوط اور قابل بھروسہ دوست ہے۔ سی پیک ٹو، چین اور پاکستان کے درمیان ایک نئے باب کا اضافہ ہے، خطے کا امن افغانستان میں امن سے وابستہ ہے۔
وزارت خارجہ میں اقتصادی سفارتکاری کے حوالے سے منعقدہ ”بزنس کنیکٹ“ اجلاس کے شرکاء سے خطابکر تے ہوئے وزیر خارجہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے وزارت خارجہ میں روائتی سوچ کی تبدیلی پر کام کیا ہے۔ جب ہماری حکومت برسراقتدار آئی تو ہمارے تعلقات امریکہ کے ساتھ انتہائی نچلے درجے پر تھے ہم نے ان دو طرفہ تعلقات کو ازسرنو استوار کیا۔ اب امریکہ نے خود اعلان کیا ہے کہ وہ دوحہ میں افغانستان امن مذاکرات کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر افغانستان میں امن بحال ہوتا ہے تو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے استحکام کیلئے ثمرات پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے بھرپور کوشش کی کہ ایف اے ٹی ایف میں ہمیں گرے سے بلیک لسٹ میں دھکیل دیا جائے مگر ہم نے ہندوستان کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔
انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کا فروغ بنیادی طور پر وزارت تجارت سے متعلقہ معاملہ ہے مگر ہم اس میں ان کے امدادی ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2020 میں 15 پاکستانی بزنس مینوں کے وفود امریکہ جائیں گے۔ہم نے یورپی یونین کے ساتھ نیو سٹرٹیجک پارٹنرشپ معاہدے پر دستخط کیے جبکہ برطانیہ کے ساتھ روابط کے حوالے سے میری سیکرٹری خارجہ کے ساتھ تفصیلی ملاقات ہوئی اور ہم نے اگلے سال کے انگیجمنٹ پلان پر تبادلہ خیال کیا۔چین ہمارا مضبوط اور قابل بھروسہ دوست جبکہ سی پیک ٹو، چین اور پاکستان کے درمیان ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔