ٹیکس چوری کلچر بن چکا ،سخت انداز میں حوصلہ شکنی  ضروری ہے: نیب سندھ

 کراچی ( نمائندہ رنگ نو ) قومی احتساب بیورو نے بدعنوان عناصر سے455 ارب روپے نقدی کی صورت میں برآمد(کیش ریکوری) کیے ہیں۔نیب کا اندرونی احتسابی نظام فعال ہے،سائلین کی شکایات پر کارروائی کرتے ہوئےبلیک میلنگ اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے اپنے

متعدد حاضر سروس افسران کو گرفتار کیا گیاہے،ٹیکس چوری کلچر بن چکا جس کی سخت انداز میں حوصلہ شکنی کرنی ضروری ہے، اس میں کاروباری طبقہ براہ راست ملوث ہے۔ نیب سندھ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر انویسٹی گیشن مسعود احمد نے گزشتہ روز ہمدرد کارپوریٹ ہیڈ آفس میں منعقدہ ہمدرد شوریٰ کراچی کے ماہانہ اجلاس کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا۔

 اسپیکر شوریٰ جنرل (ر) معین الدین حیدر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کا موضوع "احتسابی عمل کی ضرورت "تھا، جس میں ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد (ہلال امتیاز) نے بھی شرکت کی ۔

مسعود احمد نے کہاکہ مالی سال 2023-24ء کے دوران نیب نے بڑی کارروائی کرتے ہوئےفاریسٹ ڈپارٹمنٹ سندھ کی 2.29ملین ایکڑ زمین قبضے سے واگزار کرائی، جس کی مالیت 2کھرب روپے سے زیادہ ہے۔قابض گروہ اس زمین پر موجود جنگلات کو سخت نقصان پہنچاچکے ہیں۔اس کے علاوہ نیب نےکئی ہائوسنگ اسکیموں میں جال سازی کے شکار متاثرین کے 12 ارب برآمدکرکے اُن کے حوالے کیےہیں۔اپنے قیام سے اب تک قومی احتساب بیورو نے اربوں روپے مالیت کی زمینوں اور دیگر اثاثوں کی ریکوری کی ہے جسے ان ڈائریکٹ ریکوری کہا جاتا ہے۔اس کے ساتھ رشوت خوری اور فراڈ میں ملوث سیکڑوں ملزمان کے خلاف قانونی کارروائیاں عمل میں لائی گئی ہیں۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ 2022ء میں نیب کے قوانین میں تبدیلیاں کرکے ادارےکے دائرہ کار کو واضح کردیا گیا ہے۔جس کے مطابق50کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن پرنیب قانونی کارروائی کا مجاز ہوگا۔ اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم افراد پر نیب آرڈیننس کا اطلاق نہیں ہوگا۔بنک کھاتوں میں رقوم کی مشکوک منتقلی پر انکوائری شروع ہونے پر صرف بعد میں رونما ہونے والی ٹرانزیکشنز کو شامل تفتیش کیا جا سکتا ہے۔اس کے ساتھ رشوت ثابت کرنے کے لیے ملزم کے بنک اکائونٹ میں دوسرے بنک اکائونٹ سے رقم منتقلی کا ثبوت ہونا چاہیے۔

مسعود احمد نے کہا پلی بارگین ایک قانونی اصطلاح ہے، جس کا مطلب ملزم کو سزاسےرعایت دینا نہیں بلکہ ملزم کو مقدمے کی کارروائی سے پہلے اپنا قصور تسلیم کرنے پر کچھ الزامات سے چھوٹ دینا ہے۔ نیب آرڈیننس کے تحت مالی بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مقدمات میں ملزم کو پلی بارگین کی اجازت دی گئی ہے تاکہ عدالت کے وقت اور وسائل کی بچت ہو اور مقدمات کا جلد اور مؤثر تصفیہ ہوجائے۔ تاہم، پلی بارگین قبول کرنے کے بعدبھی ملزم کوعوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے،ناجائز کمائی ضبط ہونے کے ساتھ بھاری جرمانوں کا اطلاق اور معاشرے میں ساکھ کو سخت نقصان ہوسکتاہے۔

انہوں  نے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے بتایا کہ بین الاقوامی باڈی کو منی لانڈرنگ پر سخت تحفظات تھے۔ عالمی قوانین کی تعمیل میں اب حکومت نے بنکوں کو پابند کردیا ہے کہ کوئی ایسی بڑی رقم کی ٹرانزیکشن جو اکائونٹ کی عمومی ٹرانزیکشنز کے مطابق نہ ہو، اُس پر خود کار الرٹ نظام ترتیب دیں اور فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کو مطلع کریں۔اس نظام کے تحت فنانشل مانیٹرنگ یونٹ ایسی ٹرانزیکشنز کو پرکھ کر متعلقہ حکام کو مطلع کردیتے ہیں۔

اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر کرنل (ر) مختار احمد بٹ،پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد، کموڈور(ر) سدید انور ملک،انجینئر پرویز صادق، شہلا احمد، ہما بیگ، مسرت اکرم، پروفیسر ڈاکٹر خالدہ غوث، پروفیسر ڈاکٹر عامر طاسین، انجینئر ابن الحسن، پروفیسر ڈاکٹر امجد جعفری اور دیگر معززین بھی شریک ہوئے۔