گر فاصلہ ہے میلوں کا
اور زادراہ بھی پاس نہیں
دل ساتھ دھڑکتے ہیں اپنے
ہم ایک جسم کی مانند ہیں
نہ بھول سکے ہم تم کو
تم یاد ہمیں ہر لمحہ ہو
تم زخم جسم پر سہتے ہو
تو درد ہمارے ہوتا ہے
تم بھوکے ہو اور پیا سے ہو
اپنوں کو تم نے کھویا ہے
دیکھ اور سن کے دکھ تمہارے
دل خون کے آ نسو روتا ہے
اے اہل فلسطین غم نہ کر
جنگ جو یہ جاری ہے
آ زمائش یہ ہماری ہے
اور جنت کی راہ تمہاری ہے
لبنیٰ صدف














