
تہران: ایران نے خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور جنگ بندی کے لیے 6 اہم اور سخت شرائط پر مشتمل اسٹریٹجک فریم ورک پیش کر دیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق یہ تجاویز علاقائی ثالثوں اور مختلف ممالک کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد ایک باقاعدہ حکمت عملی کے تحت سامنے لائی گئی ہیں۔ ایرانی حکام نے ان شرائط کو خطے میں پائیدار سیکیورٹی کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔
پہلی شرط کے تحت ایران نے جنگ کے دوبارہ آغاز نہ ہونے کی تحریری اور قابلِ عمل ضمانت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقل امن کو یقینی بنایا جا سکے اور حالات معمول پر آ سکیں،دوسری اہم شرط میں ایران نے خطے میں قائم تمام امریکی فوجی اڈوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تیسری شرط کے طور پر جارح قوتوں کے مکمل انخلا اور جنگ کے دوران ایران کو پہنچنے والے بھاری مالی نقصانات کے ازالے کے لیے ہرجانے کی ادائیگی شامل ہے,چوتھی شرط کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ تمام علاقائی محاذوں پر جاری لڑائی کا مکمل اور غیر مشروط خاتمہ کیا جائے,پانچویں شرط میں آبنائے ہرمزکیلئے ایک نئے قانونی نظام کے نفاذ پر زور دیا گیا ہے تاکہ سمندری راستوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی قوانین کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔
آخری شرط کے طور پر ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام میڈیا پلیٹ فارمز اور عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے جو ایران مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں، جبکہ ایسے افراد کو ملک بدر کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے تاکہ پروپیگنڈے کی روک تھام ہو سکے,ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو پہنچنے والے نقصانات کے بعد اب فضائی برتری حاصل کر چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ فوری جنگ بندی کے امکانات تاحال کم دکھائی دیتے ہیں، تاہم ایران اپنی طے شدہ شرائط کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہر ممکن مذاکرات کے لیے تیار ہے۔














