اسموگ اورسانس کےامراض میں اضافے کی وجہ نائٹرس آکسائیڈ ہے: ماہر ماحولیات

کراچی ( نمائندہ رنگ نو)پاکستان کو 2030ء تک 80ملین ٹن گرین ہائوس گیسزکےاخراج کو ختم کرنا ہے۔ بصورت دیگرعالمی کمیونٹی کی جانب سے ہماری

برآمدات اور ترسیلات زر پراربوں ڈالر کاکاربن ٹیکس لگ جائے گا۔ گرین ہائوس گیسزمیں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے نائٹرس آکسائیڈ 298گنا زیادہ مہلک ہےجس سے ماحولیات کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہری علاقوں میں اسموگ اور سانس کے امراض میں ہوش رُبا اضافے کی وجہ بھی نائٹرس آکسائیڈ ہے۔حکومت کوفی الفور سخت قسم کے ایس او پیز متعارف کروانے ہوں گے اور تمام حصول یافتگان کےساتھ مشترکہ پالیسی اور روڈ میپ بنانے ہوں گے۔

ان خیالات کا اظہار ماہر ماحولیات میاں سہیل حسین نےاسپیکرشوریٰ جنرل (ر) معین الدین حیدر کے زیرصدارت منعقدہ ہمدرد شوریٰ کراچی کے اجلاس بعنوان ’’ماحولیاتی تبدیلی اور پاکستان کا مستقبل تھا‘‘ میں کیا ۔ ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ 

میاں سہیل حسین نے کہا پاکستان جس راستے پر جارہا ہے،کوئی بعید نہیں اگلےچند سال میں ہماراسانس لینا بھی محال ہوجائے۔ پنجاب میں تقریباً 50 فیصد درخت کٹ چکے ہیں کیوں کہ حکومت کی انڈسٹری کوفیول سپلائی کی پالیسی یک طرفہ طور پر واپس لینے کے بعد صنعتوں میں لکڑی جلاکربوائلرزکوچلایاجارہا ہے، گوکہ ابھی سسٹم میں گیس وافرمقدارمیں دستیاب ہے،لیکن اب چوں کہ صنعتوں کو سستا متبادل میسر آگیا ہے۔اس لیے وہ مسلسل درخت کاٹ رہے ہیں۔ مسلسل درخت کاٹنے سے ماحولیات کو سنگین خطرات پیدا ہوتے جارہےہیں اورپورا ایکو سسٹم متاثر ہورہا ہے۔ اشجار کی حفاظت تو ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے تھر کے کوئلے پر بجلی پیدا کرنی شروع کردی ہے جولگنائٹ ہیں یعنی یہ زیادہ آلودگی پھیلاتے ہیںکیوں کہ ان میں نمی کا تناسب باقی کوئلہ اقسام کے مقابلے زیادہ ہوتا ہے۔ امریکا نے سالوں پہلے نائٹرس آکسائیڈ کے اخراج کو تقریباً ختم ہی کردیا ہے۔ ہمیں اُن کے تجربے سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔

میاں سہیل حسین نے مزید کہا عالمی سطح پر نائٹرس آکسائیڈ کوفی ٹن کم کرنےپرصنعتوں کو کاربن کریڈٹ کی سہولت حاصل ہوجاتی ہے جس کو وہ ایسی کمپنیوں کو بیچ کر پیسے کماسکتے ہیں جو بہ وجہ اپنی پیداواری ضرورت، گرین ہائوس گیسزپیدا کرنے پر مجبورہوں، جیسے بجلی اور فرٹیلائزر تیارکرنے والی کمپنیاں۔ پھر یہ کمپنیاں اسی کاربن کریڈٹ کی بدولت ممکنہ قانونی کارروائی سے استثنا حاصل کرلیتی ہیں۔

معین الدین حیدر نے کہاکہ دنیا کے بہت سے ممالک ہر ممکنہ ذرائع سے توانائی پیدا کرتے ہیں۔ برطانیہ فرانس چین سب کے سب کوئلے سے بجلی بنارہے ہیں۔ پھر پاکستان کو ایسا کرنے سے کیوں روکتے ہیں؟ عالمی سطح پر گرین ہائوس گیسز کے اخراج میں پاکستان کا حصہ بہت کم ہےکیوں کہ ملک میں اتنی زیادہ صنعتیں نہیں ہیں۔ اس کے بدلے ہمیں کریڈٹ مل سکتا ہے اگر ہم درست حکمت عملی اپنائیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں آلودگی پھیلانے کے ذمے دار صنعتی ممالک ہیں۔ قدرتی گیس پیدا کرنے میں پاکستان پہلےدس ممالک کی فہرست میں شمار ہوتا ہے۔ گیس کے مزید کئی ذخائر موجود ہیں لیکن امن و امان کی مخدوش صورت حال کی وجہ سے بہت سے علاقوں میں دریافتیں نہیں ہوپارہیں۔سستی بجلی سسٹم میں دستیاب ہے اصل مسئلہ ٹرانسمیشن کے نظام میں ہے جو اتنا وسیع و منظم نہیں کہ لائن لاسز کو کم سے کم رکھ سکے۔

پروفیسرمحمد رفیع نے کہاکہ پاکستان کو اپنے ماحولیات کی حالت کو بدلنے کے لیےکثیرالجہت اور طویل مدتی پالیسی درکار ہے۔ تاہم پالیسی کا درست اطلاق تب ممکن ہے جس اُسے نافذ کرنے والے ادارے موجود ہوں اور اُن اداروں کو چلانے والےلوگ متعلقہ علوم و تکنیکی مہارت کے حامل ہوں۔

اجلاس میں جسٹس (ر) ضیا پرویز ، ہمدرد پاکستان کے چیف آپریٹنگ آفیسر فیصل ندیم، ظفر اقبال،ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کے ڈائریکٹر سید محمد ارسلان، ڈپٹی اسپیکر ہمدرد شوریٰ کرنل (ر) مختار احمد بٹ، پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد، کموڈور(ر) سدید انور ملک، ہما بیگ، ڈاکٹر عامر طاسین، ڈاکٹر امجد جعفری، انجینئر ابن الحسن، سینیٹر عبدالحسیب خان و دیگر معززین نے بھی شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہارکیا۔