
کراچی (نمائندہ رنگ نو )نونہالان موبائل فون کا استعمال صرف تعلیمی مقاصد کےلیے کریں۔ آن لائن فورمز اور گیمز کھیلتےوقت کبھی اپنی ذاتی تصاویر،
لوکیشن اوررابطہ نمبر شیئر نہ کریں اورآن لائن ہراسگی اور بلیک میلنگ کی صورت میں فوراًاپنےوالدین کو مطلع کریں۔
ان خیالات کا اظہارہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد نے گزشتہ روز بیت الحکمہ آڈیٹوریم مدینۃ الحکمہ میں منعقدہ ہمدرد نونہال اسمبلی کراچی کے اجلاس باعنوان "نونہالوں کے لیے آن لائن تحفظ" میں صدارتی خطاب میں کیا۔ اجلاس میں ماہر تعلیم،آئی ٹی پروفیشنل اور ہمدرد پبلک اسکول کے سابق طالب علم کاشف محمود بہ طور مہمان خصوصی مدعو تھے۔
محترمہ سعدیہ راشد نےکہا کہ انٹرنیٹ موجودہ صدی کی سب سے حیرت انگیزاورمفید ایجاد ہے۔یہ جدید معلومات اور تحقیق کا بہترین ذریعہ ہےجس کی بدولت اب جدید علوم پر چند ممالک کی اجارہ داری نہیں رہی تاہم بہت سے لوگ اس کا غلط استعمال بھی کررہے ہیں۔انٹرنیٹ کا منفی استعمال معاشرے میں منفی رویوں اور سماج دشمن سرگرمیوں کا باعث بن رہا ہےجس کا نشانہ نئی نسل ہے۔ حقیقی خوشی والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ وقت بتانے سے حاصل ہوتی ہے۔ اپنے بڑوں کی خدمت کریں اور اُن کے تجربے سے استفادہ کریں۔ مشکل حالات و صورت حال سے نکلنے کا تجربہ اور فہم وقت کے ساتھ آتا ہے۔
ڈاکٹر کاشف محمود نے کہاکہ آن لائن دنیا نے ہر شخص کو معاشرتی تنہائی کا شکار کردیا ہے۔ والدین کو بھی جدید ٹیکنالوجی سےخود کو ہم آہنگ رکھنا چاہیے تاکہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھ سکیں۔والدین کو بچوں کی بات کو توجہ اور کھلے دل سے سمجھنا چاہیے۔ بچے والدین کو خوف سے سائبر ہراسگی ، ذاتی معلومات پر جرائم پیشہ لوگوں کی بلیک میلنگ سے آگاہ نہیں کرپاتے اور ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں،خواہ کتنی ہی بڑی غلطی کیوں نہ ہو، والدین کو تحمل سے مسئلہ کا ادراک کرنا چاہیے اور بچوں کو اتنا اعتماد دینا چاہیے کہ بچے اپنے دل کی بات اُنھیں بتاسکیں۔ اسکرین ٹائم وقت کا ضیاع ہے ۔
انہوں نے کہا کہ آن لائن دوست کوئی دہشت گرد بھی ہوسکتا ہے،کوئی مجرم بھی ہوسکتا ہے۔روز بہ روزایسےواقعات سامنےآرہے ہیں کہ بچے نے کسی سے آن لائن دوستی کی اور جب ملنے گیا تو اغوا ہوگیا۔ ان واقعات کو روک تھام کے لیے پورے معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور نونہالوں کو خاص طور پر تیار کرنا ہوگا کہ وہ کسی آن لائن شخص سے دوستی نہ کریں۔ اور اگر دوستی ہوبھی گئی ہے تو اپنے والدین کو آگا ہ کرے۔ ایف آئی اے بہت ہی متحرک قانون نافذ کرنے والا ادارہ ہے، جب بھی کسی مشکل کا شکار ہوں فوراً ایف آئی اے کو مطلع کریں۔ جو چیز آپ چاہتے ہیں کہ لوگ اُسے نہ دیکھیں، اُس کی نہ تصویر کھینچیں او ر نہ ویڈیو بنائیں کیوں کہ جرائم پیشہ لوگ موبائل فون سے بھی ڈیٹا چُرا لیتے ہیں۔موبائل فون کے مسلسل استعمال سے بچوں میں مطالعہ کی عادت کمزور ہوتی ہے۔
نونہال مقررین قائد ایوان عائشہ فواد(ہمدرد پبلک اسکول)قائد حزب اختلاف سید محمد شجاع (ہمدرد پبلک اسکول)،فاطمہ زہرا(عظیمی پبلک اسکول) اور دیگر نے کہاکہ بچوں کا آن لائن استحصال عالمی مسئلہ بن گیا ہے اور کوئی معاشرہ اس سے محفوظ نہیں۔ بچے اپنی ناسمجھی اور فطری معصومیت کی وجہ سے جرائم پیشہ لوگوں کا شکار بن جاتے ہیں یا پھر وطن دشمن اور ریاستی اداروں کے خلاف منظم پروپیگنڈا کو درست سمجھنے لگتے ہیں۔نونہال کوئی بھی گیم یا اپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے سے پہلے والدین کو آگاہ کریں۔
مختلف اسکولوں کے نونہالان نے موضوع کی مناسبت سے آگاہی ٹیبلو/تھیٹر پیش کیا۔ اجلاس کا اختتام دعائے سعید پر ہوا جو ہمدرد پبلک اسکول اور ہمدرد ویلج اسکول کے طلبہ نے پیش کی۔





































