
کراچی ( نمائندہ رنگ نو ) رُفیدہ ہمدرد کالج اوف نرسنگ کےزیراہتمام گزشتہ روزہمدرد یونی ورسٹی کی چانسلراورہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ
سعدیہ راشد کی زیر صدارت، نعمت بیگم ہمدرد یونی ورسٹی ہسپتال میں "عالمی یوم نرسنگ "منانے کے لیےخصوصی تقریب منعقد کی گئی جس میں معزز مہمانوں اور شرکاء نے ملک میں نرسنگ کے شعبے سے وابستہ پیرا میڈک پروفیشنلزکی طبی خدمات کا برملا اعتراف کیا اوربانی نرسنگ فلورنس نائٹنگیل کو خراج عقیدت پیش کیا۔
تقریب میں معروف ماہر امراض نسواں اورسندھ انسٹی ٹیوٹ اوف ری پروڈکٹیو میڈیسن کی میڈکس ڈائریکٹر ڈاکٹر شاہین ظفر بہ طورمہمان خصوصی، مہمان اعزازی پروفیسر ڈاکٹر رفعت جان جو ایسوسی ایٹ ڈین، آؤٹ ریچ اینڈ پالیسی یونٹ آغا خان یونی ورسٹی ہیں اور بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر ریاض الحق ہمدرد ہسپتالز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سمیت دیگر معزز مہمانان گرامی شریک ہوئے۔
ابتدائی کلمات میں رُفیدہ ہمدرد نرسنگ کالج کی پرنسپل ایسوسی ایٹ پروفیسرعالیہ ناصر نےکہاکہ آج رُفیدہ ہمدرد نرسنگ کالج نے اہم سنگ میل عبور کیا ہے اور اب ہمارےبیچلرز اوف سائنس نرسنگ پروگرام کی نشستیں پچاس سے بڑھ کر ۱۰۰ ہوگئی ہیں۔ اس کامیابی کے پیچھے یقیناً ہماری چانسلر محترمہ سعدیہ راشد کا وژن ہے جو ملک کے شعبہ طب کو جدید خطوط پر استوار کرنے اورنئی نسل کو عصری تقاضوں کے مطابق جدید علوم سے آراستہ کرنے کے لیے جدوجہد کررہی ہیں۔رُفیدہ ہمدرد نرسنگ کالج مستقبل کے لیے ایسی ہنر مند افرادی قوت تیار کررہی ہے جن کے لیے نہ صرف ملک میں بلکہ بیرون ملک بھی باعزت ملازمت کے بہترین مواقع دستیاب ہوں گے۔ نرسنگ کے شعبے میں بہترین افرادی قوت کی پوری دنیا میں ضرورت ہے۔
بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر ریاض الحق صاحب نے کہا کہ نرس کا شعبہ طب میں نہایت کلیدی کردار ہے، یہ ایسے پروفیشنلز ہیں جو مریضوں کی پرسنل کیئر پر مامور ہوتے ہیں۔ میڈم نائیٹنگیل نے اپنی پوری زندگی نرسنگ کے لیے وقف کی۔ اُن کی خدمات کے اعتراف میں اُن کی یوم پیدائش سے عالمی یوم نرسنگ منسوب ہے۔
صدارتی خطبے میں محترمہ سعدیہ راشد نےکہا کہ نرسنگ ایک مقدس پیشہ ہے۔صحابیہ بی بی رفیدہ الاسلمیہ رضی اللہ عنہا پہلی مسلم طبیبہ،نرس اور سماجی کارکن تھیں۔اس کے علاوہ وہ رفاہی مطب کی بانی بھی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی تعلیمی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں دلچسپی دیکھ کر بہت خوشی ہو ئی ہے۔آپ دوران تعلیم جو بھی سیکھتے ہیں یہ آپ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا حصہ بن جاتا ہے۔لہٰذا پوری توجہ سے اپنی تعلیم مکمل کریں۔ اللہ پاک آپ سب کو کامیابی عطا فرمائیں۔ ۔
مہمان خصوصی ڈاکٹر شاہین ظفر نے کہا کہ شہید پاکستان حکیم محمد سعید ملک وملّت کےایک عظیم رول ماڈل ہیں۔محترمہ سعدیہ راشد نےجس احسن انداز میں شہید پاکستان کے مشن اور ہمدرد پاکستان کے اتنے وسیع طور پرپھیلے خدمات کے تسلسل کو آگے بڑھایا ہے ،وہ بھی پورے معاشرے کی بہت بڑی خدمت ہے۔ مریضوں سے ہمدردی کرنا اور اُن کا خیال کرنا ایک نرس کی بنیادی ذمے داریاں ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر ہر لمحہ وارڈ میں موجودنہیں ہوتے، لیکن نرسیں مریض کی ڈریسنگ سے لے کر اُس کی تمام ضروریات کا خیال رکھتے ہیں۔۔ نرسنگ تکنیکی کام ہے لہٰذا ہر نرس کے پاس معلومات مفصل ہونی چاہئیں۔ عملی تجربہ کی اپنی اہمیت ہے لیکن جونصاب اورکتب میں درج ہے,اُسے بھی پوری طرح سےذہن نشین کرنا چاہیے۔
مہمان اعزازی پروفیسر ڈاکٹر رفعت جان نے کہاکہ میڈم سعدیہ راشد کو ہلال امتیاز ملنا شعبہ طب سے وابستہ تمام لوگوں کی برابر کامیابی ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد نرسنگ کے شعبہ کی اہمیت اجاگر کرنے اور نرسوں کی خدمات کا اعتراف کرنا ہے،اس دن کو منانے کا آغاز۱۹۵۳ء میں ہوا۔لوگوں کی اکثریت شعبہ صحت میں سب سے اہم کردار صرف ڈاکٹرز کا ہی سمجھتی ہے، درحقیقت ڈاکٹرز کے علاوہ نرسیں اور پیرا میڈک کی بھی اتنی ہی اہمیت ہوتی ہے جتنی ڈاکٹرز کی اہمیت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شعبہ صحت میں نرسنگ کوریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔
تقریب کے اختتام پر محترمہ سعدیہ راشد نےمعزز مہمانوں کو تعریفی شیلڈز پیش کیں۔ جس کے بعد دعائے سعید پیش کی گئی۔














