اسامہ شفیق کی درخواست ،نجی ٹی وی چینلز کی حکم امتناع ختم کرنیکی درخواست مسترد

کراچی(ویب ڈیسک)سندھ ہائی کورٹ نےجامعہ کراچی کے دو اساتذہ پر جنسی ہراساں کرنے سے متعلق کیس میں نجی ٹی وی

چینلز،طالب علم تہماس علی خان کے خلاف اسسٹنٹ پروفیسر کی دائردرخواست پرنجی ٹی وی چینلز کی جانب سے حکم امتناع ختم کرنے کی درخواست مسترد کردی ۔

عدالت نے 18 جون تک پیمرا سے نجی ٹی چینلز کے خلاف کارروائی سے متعلق رپورٹ طلب کر لی۔  کیس کی سماعت کے موقع پرحکم امتناع ختم کرنے سےمتعلق نجی ٹی وی چینلزکے وکلا کی استدعا پر عدالت شدید برہمی کا اظہار کیا۔

جسٹس عقیل احمد عباسی نے کہا کہ ٹی وی چینلز کو لوگوں کی عزتوں سے کھیلنے نہیں دیں گے،ٹی وی چینلزبتادیں وہ چاہتےکیا ہیں، معاشرے میں ٹی وی چینلز کا ایسارویہ ہرگز برداشت نہیں۔ان ٹی وی چینلز کو صرف ریٹنگ  چاہیے۔

وکیل نجی ٹی وی نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں تہماس علی خان تین پرچوں میں فیل ہےمگر تمہاس علی خان نے 5 لڑکیوں کی جانب سے درخواست دی ۔عدالت نے شدید برہمی کا اظہارکیا اور کہا کہ ایک کام کریں،عدالتیں بند کردیں اورآپ فیصلےکرنا شروع کریں ،یہاں سے قانون کی کتابیں بھی لےجائیں اورخود ہی فیصلے کرنا شروع کردیں۔اس کے کتنے بھیانک نتائج سامنےآ سکتے ہیں ایک بڑے چینل کے مالک نے کہا کہ جوبکتا ہے وہ بیچیں گےمگر ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

جسٹس عقیل احمد عباسی نے کہا کہ ان کا نام نہیں لینا چاہتا، انہیں صرف اور صرف بریکنگ چاہیے، عدالت شریف لوگوں کی عزتوں کو سرعام اچھالنے کی اجازت کیسے دے دیں۔ عبدالمعیز جعفری وکیل ہیں اور نجی چینل میں اینکر بھی اور یہاں بھی پیش ہو گئے  عدالت نے کہا کہ مجھے بتائیں سوائے ریٹنگ کے آپ کا اسی خبریں چلانے کا کیا مقصد ہے، عدالت اگر دو ماہ بعد یہ ثابت ہوا کہ الزام غلط تھا تو اچھالی گئی عزت کا کیا ازالہ کریں گے ۔سارے مسائل، برائیاں جمع کریں اور ٹی وی پر بیٹھ کر فیصلے کرنا شروع کردیں یہاں ان ٹی وی چینلز کو روکنے والا کوئی نہی جبران ناصر نے کہا کہ معاشرے کو اس نہج پر لے جائیں گے تو اس طرح کے لوگ معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے لیں گے۔

عدالت کا کہناتھا کہ پھر لوگ اس طرح کے لوگوں کو مسیحا اور ہیرو سمجھیں گے پہلے پیمرا کو اپنا فیصلہ کرنے دیں اور انتظار کریں، عدالت نے کہا کہ کس بات کی جلدی ہے کیا ریٹنگ بڑھانی ہےمعاشرے کو مہذب معاشرے کی طرح چلنے دیں اگر آپ کے خلاف صرف ایک خبر لگائی جائے تو تکلیف کو پوچھیں گے اگر طالبات کی عزت ہے تو اساتذہ کی بھی عزت ہے یہاں ہر شخص بلیک میلنگ پر لگا ہوا ہے تو کیا اس کی اجازت دے دیں جسٹس عقیل احمد عباسی نے کہا کہ یہ بیہودگی ٹی وی چینلز پر ہرگز دیکھنا نہیں چاہتے، کیا کسی ملزم کے بھی حقوق اور عزت نفس نہیں ہوتی  پیمرا نمائندہ  نے بتایا کہ ڈاکٹر اسامہ شفیق اور جامعہ کراچی کی شکایات موصول ہو گئی ہیں۔

فریقین کو سمن جاری کرکے جواب طلب کر لیا ہے،قانون کے مطابق کارروائی کریں اور 18 جون تک آگاہ کریں عدالت نے مزید سماعت 18 جون تک ملتوی کردی ۔