
کراچی (رنگ نوڈاٹ کام) کرائم رپورٹرزایسوسی ایشن آف پاکستان نے صحافیوں سے لوٹ مار کی بڑھتی وارداتوں پر تشویش کا اظہار
کیا ہے۔گزشتہ ایک ماہ میں دس سے زائد صحافی و کرائم رپورٹرز اپنی گاڑی ،موٹر سائیکل ، بیٹری ،موبائل فونز اور نقدی سے محروم ہوچکے ہیں۔
پولیس اس معاملے میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے،پولیس اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی وارداتوں کی روک تھام میں ناکام ہوگئی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ میں سچل کےعلاقے سے92نیوز کےآصف علی سیداپنی گاڑی سےمحروم ہوچکےہیں جن کے گھر کے سامنے سےنامعلوم ملزمان گاڑی چوری کرکےلےاڑےہیں،دی نیوز کےفراز خان کی موٹر سائیکل جوہرآباد سے چوری ہوچکی ہے،نیو ٹاﺅن کے علاقے سے پبلک نیوزکے بلال خان کی موٹر سائیکل ،نقدی اور موبائل فون چھینی جاچکی ،شاہراہ فیصل کی حدود سےدنیا نیوزکے رپورٹر شعیب بخاری سےموبائل فون اورتنخواہ سےمحروم ہوچکےہیں۔ میٹرو ون نیوز کے شاہ رخ شاہ کی موٹر سائیکل پی آئی بی کےعلاقےسےچوری ہوچکی ہے،
فیڈرل بی ایریا سے عمیر علی انجم ،صولت جعفری ،سرجانی سے آپ نیوز کے محمد کامران سرجانی کے علاقے سے موبائل فون اور نقدی سے محروم ہوچکےہیں۔شاہراہ نور جہاں تھانے کی حدود سے شکیل انجم لاشاری کی موٹر سائیکل چوری ہوچکی ہے،اے آر وائی کے کامل عارف موبائل فونز اور نقدی سے محروم ہوچکے ہیں،چند روز قبل پریڈی کے علاقے فریئر روڈ سے مارننگ اسپیشل اخبار کے دفتر کے نیچے سے ایڈیٹر افتخار سعید کی کار کی بیٹری چوری کرلی گئی تھی، اینٹی کار لفٹنگ سیل صحافیوں سے تعاون کرنے اور ان کی داد رسی میں ناکام ہے۔














