
کراچی(رنگ نوڈاٹ کام )سینئرصحافی پاکستان یونین آف جرنلسٹ پی ایف یو جےدستورکےسابق صدرادریس بختیار انتقال کرگئے ۔
دو دن قبل انہیں دل کی تکلیف کےباعث جناح اسپتال کراچی کےشعبہ امراض قلب میں داخل کیا گیاتھا۔ جہاں پرانہیں اسٹنٹ ڈالےگئےتھے اور وینٹی لیٹر پر تھے۔ تاہم بدھ کی شب خالق حقیقی سے جاملے۔
ان کی نمازجنازہ آج جمعرات کو بعد نماز ظہر گلشن اقبال وسیم باغ میں ادا کی جائے گی۔ ادریس بختیار کے انتقال پر ملک بھر کی صحافتی برادری میں سوگ طاری ہوگیا ۔
انہوں نے اپنے صحافتی کیرئیر کا آغاز آبائی شہرحیدرآباد سےکیا،اس کے بعد کراچی آگئے جہاں کچھ عرصہ مقامی خبررساں ایجنسی میں بطوررپورٹر کام کیا۔
ادریس بختیار روزنامہ جسارت، ڈان گروپ، برطانوی نشریاتی ادارے(بی بی سی)سے وابستہ رہے۔
پیشہ ورانہ زندگی کےآخری ایام انہوں نےجنگ اورجیو گروپ کےساتھ گزارے۔وہ روزنامہ جنگ میں باقاعدگی سے کالم لکھنے کے ساتھ جیو نیوز کی ایڈیٹوریل کمیٹی کےسربراہ بھی تھے۔
صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی، وزیراعظم عمران خان،وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان،بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز شریف، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، سابق امیر جماعت اسلامی سید منورحسن،قائم مقام امیرجماعت اسلامی لیاقت بلوچ نےادریس بختیارکے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
صدرڈاکٹرعارف علوی کا اپنی ٹویٹ میں کہناتھا کہ میرے بہت عزیزدوست جنہیں میں کئی سال سےجانتا ہوں،ایک بہت ہی بڑے اورخوش اخلاق صحافی ادریس بختیار خالق حقیقی سے جا ملے۔ان کی موت پر صحافی برادری نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔














