
واشنگٹن(ویب ڈیسک )مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورت حال سے متعلق جمعہ16اگست کو اقوام متحدہ کی
سیکورٹی کونسل کا بند کمرے کا اجلاس ہوا۔ اس اجلاس کی درخواست پاکستان اور چین کی جانب سے کی گئی تھی۔
اجلاس کے بعد چین کے نمائندے نے میڈیا کو بتایا کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک قدیم حل طلب تنازع ہے۔چینی نمائندے کا کہنا تھا کہ بھارت کے یک طرفہ اقدام نے کشمیر کی صورت حال کو تبدیل کر دیا ہے، جس پر چین کو تشویش ہے۔چینی نمائندے کا کہنا تھا کہ کشمیر میں بھارتی اقدام سے چین کے لیے بھی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ اور یہ یک طرفہ اقدام چین کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے چین کی خود مختاری چیلنج ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ترقی پذیر ملکوں میں شامل ہیں اور ہمیں ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کرنا چاہیے جسے سے مسائل پیدا ہوں اور ترقی کا عمل رکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور انہیں ایسی کسی بھی کارروائی سے بچنا چاہیے جس سے کشیدگی اور تناؤ میں اضافہ ہو۔انہوں نے کشمیر کے تنازع کو پرامن طریقے سے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے کی کشیدہ صورت حال کے لیے خطرے میں اضافہ ہوا ہے۔
چینی نمائندے کے بعد اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کی مندوب ملیحہ لودھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک اقوام متحدہ کا شکرگزار ہے کہ پاکستان اور چین کی درخواست کے 72 گھنٹوں کے اندر کشمیر کی صورت حال پر اجلاس بلا لیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب کشمیریوں کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے، دنیا کے ایک اہم عالمی فورم پر ان کی آواز سنی گئی۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھاتا رہے گا۔ان کا کہنا تھا کہ سیکورٹی کونسل کا آج کا اجلاس اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے اور دنیا نے بھارت کے یک طرفہ اقدام کو تسلیم نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر پر سیکورٹی کونسل کی قرار دادیں موجود ہیں اور آج پچاس برس بعد بھی سلامتی کونسل میں کشمیر پر بات ہو رہی ہے۔ کیونکہ دنیا بھارت کے دعوے کو تسلیم نہیں کرتی۔














