وزیراعظم عمران خان کار تعمیراتی شعبے کو 14 اپریل سے کھولنے کا اعلان

اسلام آباد (ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی) وزیراعظم عمران خان نے تعمیراتی شعبے کے لئے مراعاتی پیکج،

کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈکے قیام اور تعمیراتی شعبے کو 14 اپریل سے کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے ان کا ذرائع آمدن نہیں پوچھا جائے گا، فکسڈ ٹیکس نافذ ہو گا، سیمنٹ اور سٹیل انڈسٹری کے سوا تمام تعمیراتی شعبوں پر پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم کے لئے 30 ارب روپے کی سبسڈی دے رہے ہیں، گھر فروخت کرنے والوں سے کیپیٹل گین ٹیکس نہیں لیا جائے گا، مکمل لاک ڈاﺅن سے امن و امان کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے، 22 کروڑ لوگوں کو بند نہیں کر سکتے، ساری قوم مل کر کورونا کو شکست دے گی، خیراتی اداروں کی سرگرمیوں کو مربوط بنائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تعمیراتی شعبے کے لئے مراعاتی پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کیا۔

زراعت اور مال بردار ٹرانسپورٹ کا شعبہ مکمل طور پر کھلا ہوا ہے، اٹھارویں ترمیم کے بعد کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتے جس سے لگے کہ وفاق کوئی زبردستی کر رہا ہے، ٹائیگر فورس محلوں میں جا کر لوگوں کو آگاہی فراہم کرے گی، پرائیویٹ سکولوں کی فیسوں سے متعلق پالیسی بنا رہے ہیں، کورونا ریلیف فنڈ کمزور طبقے کے لئے قائم کیا گیا ہے، بجلی اور گیس کے بل کی ادائیگی میں تین مہینے کا ریلیف دیا ہے، کسی کا کنکشن منقطع نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کورونا پوری دنیا میں چیلنج بن چکا ہے، پاکستان میں کورونا کا چیلنج مغرب سے مختلف ہے، مغرب میں ایک طرف کورونا ہے تو دوسری طرف معیشت ہے اور پاکستان میں ایک طرف کورونا اور دوسری طرف بھوک ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین نے ووہان کو مکمل طور پر دو ماہ کے لئے لاک ڈاﺅن کئے رکھا، پاکستان میں لاک ڈاﺅن کا مطلب ہے کہ غریب آبادیوں کو بند کرنا ہے، اس لئے پورے ملک کو لاک ڈاﺅن نہیں کر سکتے، اگر ہم لاک ڈاﺅن کرتے ہیں تو کیا ہم غریبوں کی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں گے، صرف ڈیفنس اور گلبرگ کے علاقے میں لاک ڈاﺅن کامیاب نہیں ہو گا، لاک ڈاﺅن کامیاب تب ہو گا جب کچی آبادیوں اور غریبوں کے محلوں میں بھی ہر جگہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کورونا سے پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں عام آدمی کو ریلیف پہنچانے کے لئے 1200 ارب روپے کا ریلیف پیکج دیا ہے۔