
اسلام آباد(ویب ڈیسک)ریلوے میں حادثات بڑ ھنے لگے، 20دنوں میں محدودآپریشن کے باوجود6حادثات ہوئے،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی
ریلوے کاریلوے حادثات پر براہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ کمیٹی کوبتایاجائے کے بریک لگانے سے کوچز کیسے ٹریک سے اترجاتی ہیں،حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ سیفٹی کے قوانین پر سختی سے عمل کیا جارہا ہے اور سیفٹی افسران کی کارکردگی کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
جمعرات کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی ریلوے کا اجلاس سینیٹر اسد علی جونیجو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت ریلوے نے ٹرین حادثات کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ ریلوے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 14 جولائی سے 3 اگست تک ملک میں 6 ٹرین حادثات ہوئے اور مسافر ٹرین کے 3، کارگو ٹرین کا 1 اور دیگر 3 حادثات ہوئے۔ سیکرٹری ریلوے حبیب الرحمٰن گیلانی نے کمیٹی کو بتایا کہ حادثات کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کیلئے کمیٹی بنائی گئی ہے۔
سیکرٹری ریلوے نے کہا کہ سیفٹی کے قوانین پر سختی سے عمل کیا جارہا ہے اور سیفٹی افسران کی کارکردگی کا جائزہ لیا جارہا ہے اور 500 سے زائد غیر مجاز کراسنگز کو بند کیا گیا ہے۔ریلوے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کئی حادثات عوام کی غلطیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں اور ان میں سے کئی حادثات تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہوئے ہیں کہ جن میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ کمیٹی کو ایم ایل ون، ایم ایل ٹو اور ایم ایل تھری کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر اسد علی جونیجونے کہا کہ بریک لگانے سے کوچ پٹڑی سے کیسے اتر جاتی ہے اگلے اجلاس میں بتایاجائے۔سینیٹر عثمان کاکڑ کے سوال کے جواب میں وزارت ریلوے نے کمیٹی کو ایم ایل ون، ایم ایل ٹو، ایم ایل تھری اور ایم ایل فور پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔
کمیٹی نے ہدایات دیں کہ اب تک کی ہونیوالی پیش سے متعلق کمیٹی کے اگلے اجلاس میں تفصیلات پیش کی جائیں۔ سینیٹر مرزا محمد آفریدی نے کہا کہ گوادر اور چمن مستقبل ہے اور اس سے ہم وسطی ایشیاء افغانستان کے راستے پہنچ سکتے ہیں۔ ریلوے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ گوادر سے بسیمہ اور کوئٹہ تک فزیبلٹی مکمل ہے اور کوئٹہ سے کوٹلہ جام تک ریلوے ٹریک کی فزیبلٹی مکمل کرلی گئی ہے۔اراکین کمیٹی کی متفقہ رائے تھی کہ پسماندہ صوبوں کے تحفظات دور کئے جائیں۔














