جامع واٹر پالیسی نافذ کی جائے، شوریٰ ہمدرد کے اجلاس میں دانشوروں کا اظہار خیال

کراچی (رنگ نوڈاٹ کام )ماہر آبی وسائل و توانائی ڈاکٹر محمد بشیر لاکھانی نے کہا ہے کہ پانی کے استعمال کی

ہر سطح پر پیمائش ہونی چاہیے کہ ملک میں کون کتنا پانی استعمال کر رہا ہے؟ اورہر شعبے میں اس کے استعمال کا ریکارڈ رکھا جانا چاہیے جو ہم رکھ سکتے ہیں۔

وہ جسٹس (ر) حاذق الخیری کی زیر صدارت ”ڈیمز کی تعمیر کے ساتھ ساتھ پانی کے استعمال میں احتیاط ناگزیر ہے“ کے موضوع پر شوریٰ ہمدرد کراچی کے اجلاس سے ہمدرد کارپوریٹ آفس کراچی میں خطاب کر رہے تھے۔

 

اجلاس میں شوریٰ ہمدرد پاکستان اور ہمدرد فاونڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد بھی موجود تھیں۔

 ڈاکٹر لاکھانی نے مزید کہا کہ ہمارا سب سے زیادہ پانی زراعت میں استعمال ہوتا ہے جب کہ ہمارے پاس صرف تین ماہ کا پانی جمع رہتا ہے۔ تربیلہ ڈیم کے بعد ہم کوئی بڑا ڈیم نہیں بنا سکے۔

صدر مجلس جسٹس (ر) حاذق الخیری نے کہا کہ ملک کے لیے نئے ڈیم کی تعمیر بہت ضروری ہے، سابق چیف جسٹس نے ڈیم کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کا مستحسن قدم اٹھایا، تا ہم وہ ڈیم کا صرف ایک فیصد ہی جمع کرسکے لیکن اس سے یہ ضرور ہوا کہ ڈیم اور پانی سے متعلق قوم میں ایک بیداری پیدا ہوئی جو خوش آئند ہے

۔ انجینئر پرویز صادق نے تجویز دی کہ گھر بناتے وقت ہی پانی کی ری سائیکلنگ کا نظام قائم کیا جائے۔ پروفیسر ڈاکٹر شکیل فاروقی نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو دوگنا زیادہ پانی ملا لیکن اس کی قیمت یہ ادا کرنی پڑی کہ بھارت کو یہ سہولت دے دی گئی کہ پانی کو بجلی پیدا کرنے اور دیگر کاموں کے لیے استعمال کرسکتا ہے

۔ کموڈور (ر) سدید انور ملک نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ہمیں پانی اور غذا ہر چیز کے استعمال میں کفایت شعاری سے کام لینا ہوگا۔ شمیم کاظمی نے کہا کہ پانی کا غیر ضروری استعمال، بدانتظامی کی وجہ سے پانی کا ضیاع اور پانی کی چوری یہ تین عناصر ایسے ہیں جنہوں نے مسئلہ آب پیدا کیا ہوا ہے ان پر قابو پاکر ہی پانی کے مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔

ہمابیگ نے کہا کہ پانی کی بچت سے متعلق بچوں کی تربیت کی جائے تا کہ آنے والی نسل پانی کے استعمال میں محتاط ہو۔ ابن الحسن رضوی نے کہا کہ ہمارے معاشرتی نظام میں پانی کا ضیاع بہت کیا جاتا ہے، لہٰذا پانی کی ری سائیکلنگ بہت ضروری ہے۔

ڈاکٹر ابوبکر شیخ نے کہا کہ ہمارے ملک میں پانی کی کمی سے زیادہ پانی کے مینجمنٹ کی کمی ہے جس پر ہمیں توجہ دینی چاہیے۔

 انورعزیز جکارتہ والا نے کہا کہ پانی کی بچت اور اس کو بڑے پیمانے پر ذخیرہ کرنے پر عملی توجہ دینی چاہیے۔ز مسرت اکرم نے کہا کہ پانی کی بچت بہت اچھا کام ہے لیکن یہ کام ہر شخص پہلے خود سے شروع کرے اس طرح سب لوگ پانی کی بچت کرنے لگیں گے۔ عثمان دموہی نے کہا کہ ہمیں بہر صورت پانی کی چوری روکنی ہوگی اور نہروں سے پانی کے رساو¿ کو ختم کرنا ہوگا۔

۔ بریگیڈیئر (ر) ریاض الحق نے کہا کہ پانی انسانی زندگی میں بہت اہمیت رکھتا ہے کتنی قومیں پانی نہ ملنے کی وجہ سے نیست و نابود ہوگئیں۔