
کراچی/ہالا(رپورٹ :سلمان غوری ) جماعت اسلامی پاکستان کےسابق امیر سید منور حسن نے کہا ہے کہ فریضہ اقامت دین ایک اہم فریضہ ہے، ایک لاکھ 24ہزار
انبیاءکرام اللہ تعالیٰ نے اسی مقصد کیلئے بھیجےکہ معاشرے میں ایسی تحریک وتحرک کی ضرورت ہے جو لوگوں کو پورے کا پورا دین سمجھا دیں، دین محض چند اخلاق وعبادات کا نام نہیں بلکہ پورے دین کے غلبہ، انقلاب وجدوجہد کا نام ہے۔
یہ بات انہوں نےمنصورہ ہالا میں جماعت اسلامی سندھ کے ذمہ داران کے سہ روزہ اجتماع کے آخری روز شرکاءسے خطاب کرتے ہوئےکہی۔قبل ازیں سابق امیر کا زبردست استقبال،امیر صوبہ محمد حسین محنتی اور امیر ضلع مٹیاری فقیر محمد لاکھونے انہیں سندھ کا روایتی تحفہ اجرک وٹوپی پیش کیا
۔سابق سینیٹر وجماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر پروفیسر محمد ابراہیم نے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نماز وروزہ سمیت عبادات اقامت دین کی بنیاد ہیں، اسکے ذریعے ہی اللہ کی نصرت اور کامیابی ممکن ہے، اقامت دین کیلئے عبادات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے جو ہمیں غلبہ دین کیلئے تیار کرتی ہیں۔ جماعت اسلامی اقامت دین کی وہ عالمگیر تحریک ہے جو اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام اور بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر صرف ایک اللہ کی بندگی اختیار کرنے کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔

امیر سندھ محمد حسین محنتی نے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ باب الاسلام ہے، جماعت اسلامی ملک کی نظریاتی وجغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہے، یہاں پر اسلام اور نظریہ پاکستان کےخلاف کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہوگی،نبی مہربان نے اپنی پوری زندگی دعوت دین کیلئے وقف کردی۔
بلوچستان امیر وممتاز عالم دین مولانا عبدالحق ہاشمی نے شرکاءسے خطاب میں ۔سابق امیر صوبہ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ حالات کو بدلنا ہے تو سب سے پہلے اپنے آپ کو بدلنا ہوگا ۔صوبائی نائب امیر حافظ نصراللہ عزیز نے کہا کہ دعا تمام عبادات کا مغز ہے اقامت دین کیلئے جدوجہد کرنے والوں کو دعا کو اپنی دعوت کا ذریعہ بنانا چاہئے۔














