
ٹنڈوآدم (رپورٹؒ: سلمان غوری)پاکستان پیپلز پارٹی کےسینیٹر اور سانگھڑپیٹرولیم سوشل ڈولپمینٹ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر امام الدین شوقین نے آئل
اینڈ گیس کمپنیوں کی جانب سے مقامی افراد کو روزگار فراہم نہ کرنے پرسخت برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ 18 ویں ترمیم کے بعد آئل اینڈ گیس رائلٹی کا اسم صوبائی بن چکا ہے۔اس لئے آئل اینڈ گیس کمپنیوں کو وفاقی حکومت کے بجائے سندھ حکومت کی جانب سے آئل اینڈ گیس رائلٹی کے حوالے سے جاری کردہ رہنماء اصولوں پرمکمل عملدرآمد کرنا چاہیے ۔
ڈپٹی کمشنرآفس میں سانگھڑ پیٹرولیم سوشل ڈولپمینٹ کمیٹی کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سینیٹر امام الدین شوقین نے کہا کہ آئل اینڈ گیس کمپنیاں فنی عملے کا بہانہ بناکر باہر سے لوگوں کے بلا کر روزگار دے رہیں ہیں جو مقامی افراد سے بہت زیادتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہاں کے بیچلرز آف انجینئرنگ کی ڈگری رکھنے والے نوجوان دھکے کھا رہے ہیں اور کمپنیاں باہر کے افراد کو ترجیح دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 18 وین ترمیم کے بعد اب یہ اسم صوبائی ہے اس لئے کمپنیوں کو سندھ حکومت کے اصولوں کے مطابق کام کرنا ہوگاتاکہ تمام علاقوں کو برابری کی بنیاد پر ترقی دلائے جائے، انہوں نے بتایا کہ آئل رائلٹی کا اسم صوبائی بننے کے بعد اب سوشل ڈولپمینٹ فنڈ اور پراڈکشن بونس فنڈ مشترکہ طور پر ایک ہی کمیٹی کے ماتحت ہوگا اس کے لئے الگ الگ کمیٹیاں نہیں بنائی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ ضلع بھر ایسے 500 گاؤں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں گیس فراہم کرنی ہے مگر آئل کمپنیاں اس مد میں سوئی گیس کمپنی کو رقم ادا نہیں کر رہی ہیں انہوں اس حوالے سے آئل کپمنیوں کے حکام کو ہدایت کی کہ فوری طور پر یہ رقم ادا کریں۔ اس موقع پر ایم این اے نوید ڈیرو، صوبائی وزیر عشر و زکوات فرازاحمد ڈیرو، ایم پی ای شاہد خان تھیم، جام مدد علی اور ضلع چیئرمین خادم حسین رند نے آئل کمپنیوں کی جانب سے دیہی علاقوں کو نظر انداز کرنے کی شکایات کرتے ہوئے کہاکہ آئل رائلٹی کے قانون کے مطابق کمپنیوں کے 5 کلو میٹر علاقوں میں بنیادی سہولیات فراہم کرنے ہوتی ہیں مگر کمپنیاں بہانے بنا رہیں ہیں۔
اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سانگھڑ نثار احمد میمن نے کہا کہ آئل گیس کمپنیوں کی جانب سے پراڈکشن بونس کے مد میں ملنے والے رقم کا 60 فیصد متعلقہ تعلقے میں خرچ کرنا ہوتا ہے اور 40 فیصد ضلع بھر میں ہوتا ہے، جبکہ سوشل ڈولپمینٹ فنڈ چیئرمین کا صوابدیدی ہے کہ وہ فنڈز ضلع بھر میں کہیں بھی استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ضلع انتظامیہ کی جانب سے اعلان کردہ ترقیاتی اسکیموں پر اعتراض موصول ہو چکے ہیں جن کی روشنی میں کمیٹی کی مشاورت سے ترقیاتی اسکیموں کو ازسر نو ترتیب دیا جا رہاہے۔ اجلاس میں ضلع بھر کی تمام آئل گیس کمپنیوں اور دیگر محکموں کے حکام نے شرکت کی۔














