لشمینیا نےکراچی میں پرپھیلا لیے

کراچی (رپورٹ:زین صدیقی )لشمینیا کامرض کراچی میں اپنےپرپھیلانےلگا،ادویہ اورانجیکشن مہنگی ہونےکی وجہ سے

غریب مریض رل گئے،علاج میں مشکلات کاسامنا،شہریوں نے حکومت سندھ سے چمڑااسپتال اورشہر کےدیگراسپتالوں میں ادویہ اورانجیکشن کی فراہمی کا مطالبہ کردیا۔

لشمینیا کامرض اب صحرائی علاقوں کےبعد اب شہری علاقوں میں بھی عام ہونےلگاہے۔کراچی میں اس مرض کےصرف ایک سرکاری اسپتال میں ماہا نہ تقریباً 100مریض ماہانہ آرہے ہیں،مگر وہاں ادویہ دستیاب ہیں نہ انجیکشن،جس کی وجہ سےاسپتال میں آنے والےمریض مشکلات کاشکارہیں۔

لشمینیا کا مرض ایک خاص مکھی کے کاٹنے سے ہوتا ہےجو کسی بھی وقت ،جسم کے کسی بھی حصے بشمول چہرے پرکاٹ لیتی ہےاورپھر دھبوں کی صورت میں مرض عیاں ہوتا ہے،مکھی عام مکھی کی طرح اڑنہیں سکتی،کتوں کاجسم اورزیرتعمیریاٹوٹی پھوٹی عمارتوں  کی دیواروں میں موجودخلا،پانی کی جگہ اورصحرائی علاقے اس کامسکن ہیں۔بلوچستان،تھرپارکر،سندھ بلوچستان  کے سرحدی علاقوں اورخیرپختونخوا میں یہ مرض تیزی سےپھیل رہا ہے۔

جلدی امراض کےما ہرین کا کہنا ہے کہ لشمینیاکامرض کراچی میں بھی تیزی سےپھیل رہاہے،شہرکے ایک سرکاری اسپتال میں 30 دن میں تقریباً100 سے زائد مریض علاج کیلئے آتےہیں۔ان کا کہنا ہے کہ یہ مرض  مخصوص مکھی کے کاٹنے سے پیدا ہوتا ہے۔مرض کی علامت کوئی نہیں ہوتی،مکھی کےکاٹنے سےمتاثرہ جگہ پرایک دانہ نکلتاہےجو بعد میں پکنا شروع ہوجاتاہےاسی جگہ ہلکی خارش ہوتی ہے،مرض کی تشخیص کیلئےکیاجانےوالا خون کا ٹیسٹ بہت مہنگاہوتا ہے،خون میں اینٹی باڈیزچیک کی جاتی ہیں۔زخم کوکھرچاجاتا ہے،پھراس سے جو رطوبت نکلتی ہےاسے سلائیڈ پرلگاکرمائیکرواسکوپ سےچیک کیا جاتا ہے جس سے جراثیم نظرآجاتےہیں ۔

ماہرین کاکہناتھاکہ پہلے یہ مرض صحرائی علاقےمیں پایا جاتاتھامگراب یہ شہری علاقوں میں بھی پھیل رہاہےاورلشمینیا سے متاثرہ افراد اسپتالوں میں لائےجا رہےہیں،انہوں نے کہا کہ مکھی کتوں کے جسموں اورزیرتعمیر یاعام عمارتوں کی دیواروں کے خلامیں رہی ہے،جبکہ یہ سفرکر کےایک شہر سے دوسرے شہر آنے والے افراد کے سامان کےذریعے بھی آجاتی ہے۔تاہم ایک فرد سے دوسرے کو منتقل نہیں ہوتی ۔بچاؤ کیلئے موسپل لگانا مفید ہے،گھروں میں جراثیم کش دواکااسپرے کیاجائےاورماحول کا صاف ستھرارکھاجائے،انہوں نےکہا کہ مرض سے متعلق لوگوں کو آگہی حاصل نہیں ۔ضروری ہے کہ میڈیا اس سلسلے میں اپنا کردار اداکرے۔

ماہرین نے کہا کہ شہر میں کتوں کی بہتات ہے،ان کی کثیرتعد ادمکھیوں کی افزائش اورامراض کے پھیلاؤ کیلئے خطرہ کی گھنٹی ہے،لہٰذ اضروری ہے کہ کتا مارمہم چلائی جائے اوران کا مکمل خاتمہ کیا جائے،ادھر شہریوں  حکومت سندھ ،وزیرصحت سندھ اورسیکریٹری  صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ لشمینیا کےمرض کے علاج کیلئےاسپتالوں میں ادویہ فراہم کی جائیں ہونی اورانجیکشن کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔