حلقہ اربابِ ذوق افراد کی تعداد کا پابند نہیں،پروفیسرسحرانصاری

کراچی (رپورٹ: کامران مغل) شاعرادیب، محقق اور کئی کتابوں کے منصف پروفیسرسحرانصاری نے کہا ہے

کہ حلقہ اربابِ ذوق  افراد کی تعداد کا پابند نہیں۔

یہ بات انہوں نے افسانہ نگار، نقاد، شاعر اور صحافی زیب اذکار حسین کے دانش کدہ پر اپنے اعزاز میں دعوت شیراز کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

دعوت شیراز میں صحافی ناول نگار حسن جاوید، ایڈیٹر اردو لغت بورڈ ڈاکٹر شاہد ضمیر، استاد اور سینئرصحافی خالد دانش، شاعرہ مہرجمالی، افسانہ نگار نغمانہ شیخ، شاعر آصف علی آصف، فوٹو گرافر خواجہ محمد اعظم اور کامران مغل نے شرکت کی۔

پروفیسر سحرانصاری نے بتایا کہ ان کا حلقہ ارباب ذوق سے بہت پرانا تعلق ہے اور اُس کے بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں لیکن جن لوگوں کو اِس سے وابسطہ دیکھا وہ بڑے مخلص اور جس شہر میں بھی ہوتے ہیں چاہے پاکستان میں ہوں یا پاکستان سے باہر بڑی پابندی سے حلقہ اربابِ ذوق کے لیے اپنے وقت کو صرف کرتے ہیں۔

 انہوں نے ایک یادگار نشست کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ ایک دفعہ پاکستان آرٹس کونسل میں حلقہ اربابِ ذوق کی نشست ہوئی جس میں ضیاجالندھری اور صہبا اختر تھے، صہبا اختر اس وقت حلقے کے سیکرٹری تھے۔ تین افراد ہونے کے باوجود نشست ہوئی صہبااختر نے پچھلی نشست کا احوال سنایا اورمیں’سحرانصاری‘ نے نظم پڑھی۔ ضیا جالندھری صاحب نے صدارت کی اور گفتگو ہوئی۔

سحرانصاری نے کہا کہ بتانا یہ چاہتا ہوں کہ حلقہ اربابِ ذوق جو ہے وہ افراد کی تعداد کا پابند نہیں۔۔ ان کا شہر ہے کہ

محفل آرائی ہماری نہیں افراد کا نام

کوئی ہویاکہ نہ ہو آپ توآئے ہوئے ہیں

پروفیسرسحرانصاری نے کہا کہ یہ حلقے کا مزاج رہا ہے۔ آج کل ظاہر ہے نئے لوگ ہیں ان کی نئی بصیرت ہے۔ ان کے نئے مسائل ہیں جو تخلقیقات پیش کی جاتی ہیں ان میں ایک نیا پن ہے۔ نئے موضوعات ہیں۔

 انہوں نے دعوت شیراز کے حوالے سے کہا کہ زیب اذکار حسین کے قیام گاہ پر بہت اچھی تقریب رہی۔ اںہوں نے کہا کہ ’’جو گھریلو نشستیں ہوتی ہیں۔ کم افراد پر مشتمل ہوتی ہیں اور وہ زیادہ اچھی ہوتی ہیں بنسبت زیادہ افراد پر مشتمل محفلوں کے‘‘ اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ آپ شعر و شاعری یا افسانے کے علاوہ کچھ موضوعات پر گفتگو بھی کرلیتے ہیں۔ جیسے دعوت شیراز کے موقع پر سیاست، شخصیات اور تاریخ پر گفتگو ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ادبی رحجانات کے بارے میں تبادلہ خیال ہوا اور کلام سننے کا موقع ملا۔

انہوں نے کہا کہ گھریلو تقریبات میں آپس کی یگانگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ بڑی تقریب میں صرف علیک سلیک تک ہی محدود رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کے محسوسات اور جذبات تک پہنچنے کا موقع نہیں ملتا۔ پروفیسر سحرانصاری نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ آئندہ بھی اس طرح کی محافل کا انعقاد کیا جاتا رہے گا۔

پروفیسرسحرانصاری بتایا کہ پہلے حلقے میں ایک باکس رکھا رہتا تھا جس میں ہر شخص اپنا تعاون(contribution)ڈال دیا کرتا تھا جس سے چائے بسکٹ وغیرہ کا بندوبست ہوتا تھا۔ انہوں نے تجویز دی کہ یا تو آئندہ کی نشست کا پورا خرچ کوئی ایک فرد اٹھائے یا پھر سب مل کر تعاون کریں۔ سحرانصاری نے بتایا کہ جب وہ افکار میں بیٹھے تھے تو اس وقت یہ ہوتا تھا کہ جمعے کے روز نماز کے بعد لوگ آ جاتے تھے تمام لوگ اپنا حصہ ڈالتے تھے یہ طریقہ کچھ بُرا لگتا تھا پھر یہ ہوا کہ ایک آدمی ایک ہفتے مین ایک دفعہ خرچہ کرتا تھا اور اس طرح پھر اس کی باری پانچ سے چھ ماہ کے بعد آتی تھی۔ شاندار تقریب کے انعقاد پر پروفیسر سحرانصاری نے زیب اذکار حسین کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا۔۔ دعوت شیراز کے موقع پر شرکانے اپنا اپنا کلام سنایا۔ آخر میں پروفیسر سحرانصاری نے اپنا کلام سنا کر محفل لوٹ لی۔۔۔۔