
کراچی(رنگ نوڈاٹ کام ) ادبی کمیٹی کراچی پریس کلب کے زیر اہتمام شاعرہ ثریا حیا کی کتاب کشت جاں
کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا
تقریب رونمائی کی صدارت مدیراطراف معروف صحافی محمود شام نے کی۔ شاعراور ادیب منظرایوبی تقریب کے مہمان اعزازی اور شاعر شفیق احمد شفیق مہمان خصوصی تھے۔ سیکرٹری پریس کلب ارمان صابر نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ مقررین نے شاعرہ ثریا حیا کی شاعری اور اس کے مختلف جہتوں پر سرحاصل گفتگو کی۔
تقریب سے افسانہ نگار اور صحافی زیب ازکار حسین، آصف علی آصف، پروفیسر شہناز پروین، نسیم انجم، پروفیسر شوکت اللہ جوہر، صفدر علی انشا، نجیب عمر، احمد سعید فیض آبادی اور دیگرنے خطاب کیا
صدر تقریب محمود شام نے اپنا مضمون" سعودی عرب کو حیا کی ضرورت نہیں رہی" پڑھ کرسنایا جیسے شرکاء نے بے حد پسند کیا۔
انہوں نے کہا کہ کافی عرصے بعد اچھی شاعری پڑھنے کو ملی۔ ثریا حیا کی شاعری آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے ان کی شاعری تابندہ رہے گی۔۔ ثریا پیار کی نوید دے رہی ہیں اور مولانا آ رہا ہے۔۔
شاعراور ادیب منظر ایوبی نے پریس کلب کی انتظامیہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ثریا حیا غائب ہونے کے بعد منظر پر آئیں ہیں اور اپنے ساتھ کتاب بھی لائیں ہیں۔۔
انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ ان کے دور میں دو ثریا ہوتی تھیں ایک ثریا زیب اور ثریا حیا،، ثریا زیب اپنی آواز سے پہنچانی جاتی تھیں اور ثریا حیا اپنی تخلیق سے،لیکن دونوں کافی عرصے سے غائب ہیں ایک تو منظر عام پر آگئیں ہیں دوسری کا تاحال کوئی پتہ نہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ان کی کتاب میں کئی غزلیں اور نظمیں شامل ہیں لیکن دو غزلوں نے انہیں امر کر دیا ہے۔ کشت جاں میں دو غزلیں ہی سرمایہ ہیں۔ صدیاں گزرنے کے باوجود اردو غزل کی مقبولیت آج بھی قائم ہے۔
ادیب اور افسانہ نگار و صحافی زیب اذکار حسین نے کہا کہ ثریا حیا کی شاعری میں تازگی ہے، ان کی شاعری اردو ادب میں منفرد مقام رکھتی ہے۔۔ ثریا حیا نے زندگی کو کئی انداز میں دیکھا ہے۔۔
سیکرٹری پریس کلب ارمان صابر نے کہا کہ جب وہ منتخب ہوکرآئے تھے تو ان ادبی پروگرام سے انہوں نے کام کا آغاز کیا تھا اب ان کی مدت ختم ہونے کو آرہی ہے تو ان کی کوشش ہے کہ اختتام بھی ادبی پروگرام پر ہو۔۔۔
انہوں نے کہا کہ کراچی پریس کلب نے ہمیشہ ادیبوں اور شاعروں کی حوصلہ افزائی کی ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
۔نظامت کے فرائض حمیرا راحت نے انجام دیئے۔۔۔














