اٹھارہویں ترمیم کے نتیجے میں عوام کو دھوکہ دیا گیا، خالد مقبول صدیقی

کراچی (ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنماءخالد مقبول صدیقی

نے کہا کہ حکومت کی مذاکراتی کمیٹی سے مذاکرات بڑے حوصلہ افزاءرہے ، سندھ کی عوام کو فوری ریلیف دینے کی بڑی ضرورت ہے ،ہم نے پی ٹی آئی کی حکومت میں شامل ہوتے وقت غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا تھا، اٹھارہویں ترمیم کے نتیجے میں عوام کو دھوکہ دیا گیا،ہمارے مطالبات میں کوئی شخصی یا پارٹی مفاد نہیں گزشتہ گیارہ سال میں کراچی میں معاشی دہشتگردی ہوئی ، سندھ کے شہری علاقوں کے مسائل فوری نوعیت کے ہیں جو شہر پاکستان کو چلانے کے لئے 65 فیصد ٹیکس دے رہا ہے، ان کی ترقی کے لئے کہیں باہر سے بھیک مانگنا پڑی گی ، ہم نے حکومت بننے میں مدد کی آگے بھی کرتے رہیں گے ،ہمارے سات ایم این ایز اور سینیٹرز پاکستان کے مفاد میں ہونے والی قانون سازی میں حکومت کے ساتھ ہیں ۔

 حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنماءخالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم نے پی ٹی آئی کی حکومت میں شامل ہوتے وقت غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا تھا ، ہم نے اپنے وعدے کیے اور ان کا اعادہ بھی کیا ، ہمارے مطالبات میں کوئی شخصی یا پارٹی مفاد نہیں گزشتہ گیارہ سال میں کراچی میں معاشی دہشتگردی ہوئی ۔

انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے نتیجے میں عوام کو دھوکہ دیا گیا ۔ سندھ کے شہری علاقے بدحالی کی حالت میں ہیں انہیں انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہے ہماری حکومت سے درخواست ہے کہ یہ شہری علاقوں کے مسائل فوری نوعیت کے ہیں جو شہر پاکستان کو چلانے کے لئے 65 فیصد ٹیکس دے رہا ہے ان کی ترقی کے لئے کہیں باہر سے بھیک مانگنا پڑی گی۔

 انہوں نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی سے مذاکرات بڑے حوصلہ افزاءرہے ۔ سندھ کی عوام کو فوری ریلیف دینے کی بڑی ضرورت ہے ۔ آنے والے چند دنوں میں عوام کو اس میں واضح پیش رفت نظر آئے گی ۔انہوں نے کہا کہ ہم سندھ کے شہری علاقوں کا مقدمہ لڑ رہے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایم کیوایم اور دیگر اتحادی جماعتوں کو کانفرنس کرکے نہ بتانا پڑے بلکہ عام شہری ہی یہ کہیں کہ جمہوریت کے ثمرات عوام کو مل رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے ثمرات شہریوں تک پہنچنا شروع ہو چکے ہیں ہم نے حکومت بننے میں مدد کی آگے بھی کرتے رہیں گے ۔