سندھ کے 311اسکولوں کوانا کا مسئلہ بنا کر بند کر دیاگیا، سیف پارٹنر کوآرڈینشن کمیٹی

میرپورخاص(رپورٹ :محمدناصر اقبال) آل سندھ سیف پارٹنر کوآرڈینشن کمیٹی کی جانب

سے سیف مینجمنٹ کی کرپشن اقربا پروری اور تعلیم دشمن پالیسیوں کے خلاف کمیٹی کے مرکزی وائس کنوینر واجد لغاری، سریش کمار اور منظور بھٹی نے پر یس کلب میرپورخاص میں پر یس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی عہدیدار محترمہ ناہید شاہ نے سندھ کے 311اسکولوں کو بلاجواز انا کا مسئلہ بنا کر بند کر دیا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں طلبہ کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے اور سینکڑوں اساتذہ کا مستقبل بھی تبا ہ ہو رہا ہے

ان کا کہنا تھا کہ  میرپورخاص سمیت سانگھڑ عمرکوٹ خیر پور دادو لاڑکانہ او ر دیگر اضلاع میں سینکڑوں اسکول بند ہیں جبکہ حکومت سندھ نے تعلیم کی بہتری کے لیے صوبہ بھر میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کر رکھی ہے دوسری جانب سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی مینجمنٹ اسکول بند کرکے طلبہ کے مستقبل سے کھیل رہی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے من مانی کرتے ہوئے نئی پالیسی کے تحت سبسڈی کی رقم کو قرض کے طور پر مسلط کر دیا ہے 1998سے کامیابی سے چلنے والے اسکولوں کو ایک لیٹر جاری کر کے اسکول کے پلاٹ اور عمارتوں کو سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے نام تبدیل کر نے کے لیے زور دیا جارہا ہے جبکہ ضلعی ڈپٹی کمشنر کو بھی تحریری لیٹر کے زریعے تما م عمارتوں اور اسکولوں کے پلاٹوں کو سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے نام تبدیل کرنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے جبکہ اسکول مالکان کو کروڑ وں روپے کا قرض دار دیکھا یا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ ایجوکیشن دُنیا کا واحد ادارہ ہے جو سبسڈی کو قرض میں تبدیل کر رہا ہے جبکہ اگست 2018میں اسکولوں کو ملنے والے کروڑوں روپے کے بقایا جات بھی تاحال ادا نہیں کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ جائز جدوجہد سے دستبردار ہونے کے لیے مختلف طریقوں سے دباؤ ڈال رہی ہے انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہمارا حق ہے اور مسائل کے حل تک احتجاج جاری رہے گا ۔