روہنگیا مسلمانوں کےقتل عام میں ملوث فوجی سزاپوری کیےبغیر رہا

رنگون (ویب ڈیسک )روہنگیا مسلمانوں کےقتل عام میں ملوث 7فوجی اہلکاروں کوسزاپورا کیے بغیرجیل سےرہا کردیا گیا۔

بین الاقوامی میڈیا کےمطابق گزشتہ برس نومبرمیں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث میانمار فوج کے 7اہلکاروں کو 10سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ان اہلکاروں نے 2017 میں میانمار کے گاؤں دِن اِن میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے دوران 10بے گناہ اور معصوم دیہاتیوں کو محض مسلمان ہونے کی بنا پر بے دردی سے قتل کیا تھا اور ان کے گھروں کو آگ لگائی تھی۔

ان اہلکاروں کی ظلم کی داستان کودنیا کےسامنےلانے والے عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کےصحافیوں کو جھوٹےمقدمات میں گرفتارکرلیا گیا تھا اور سات سات سال قید کی سزاسنائی گئی تھی، تاہم 521دن قید میں رہنےکے بعد حال ہی میں عالمی دباؤ پر صحافیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

جیل حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ 10روہنگیامسلمانوں کے قتل میں ملوث 7 فوجی اہلکاروں کو 10سال قید کی سزا کو فوج کی جانب سے گھٹا کر2 ماہ کردیا گیا ،اسی لیے ان اہلکاروں کو فوری طور پررہا کیا ہے۔