
بغداد( ویب ڈیسک )عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے ایران کے حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا گروپوں کے اختیارات پر پابندی
کے لیے ایک حکم جاری کیا ہے اور ان پر زور دیا ہے کہ وہ ملک کی مسلح افواج میں شمولیت اختیار کر لیں۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وزیراعظم کے حکم کے تحت ان پیراملٹری یونٹوں کو مسلح افواج میں ضم کیا جاسکے گا۔ ان مسلح گروپوں کو 31 جولائی تک نئے قواعد وضوابط کی پاسداری کرنا ہوگی۔
عادل عبدالمہدی نے کہا کہ نئے حکم کے تحت ان ملیشیاؤں کو چیک پوائنٹس اور مالی دفاتر کو بند کرنا ہوگا۔
ان شیعہ ملیشیاؤں نے داعش کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا اور انہوں نے عراقی فورسز اور امریکا کی قیادت میں اتحادی فورسز کے ساتھ مل کر لڑائی میں حصہ لیا تھا اور اس سخت گیر جنگجو گروپ کو عراق کے مغربی اور شمال مغربی علاقوں میں شکست سے دوچار کیا تھا لیکن اس کے بعد سے ان کا عراق میں کافی اثر ورسوخ ہوچکا ہے۔














