پاکستان کی کشمیر میں کرفیو سے متاثرہ خواتین کے تحفظ کی اپیل

اقوام متحدہ (ویب ڈیسک ) اقوام متحدہ میں پاکستان کی سبکدوش ہونے والی مستقل مندوب

ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل سے اپنے آخری خطاب کے دوران پرزور اپیل کی ہے کہ سلامتی کونسل مقبوضہ کشمیر میں کرفیو سے متاثرہ خواتین کا تحفظ کے لئے اقدامات اٹھائے ۔

 سلامتی کونسل میں خواتین ، امن وسلامتی سے متعلق بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تقریباً تین ماہ سے دنیا مقبوضہ کشمیر میں تمام شہری آزادیوں پر بھارت کی ظالمانہ پابندیوں کو خوف و ہراس سے دیکھ رہی ہے جس نے بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزیاں کرکے مقبوضہ علاقہ کا الحاق کیا اور وہاں رہنے والے لوگوں بالخصوص بچوں اور خواتین پر مظالم میں اضافہ کیا ۔

کونسل کے اجلاس کے بعد اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے قرارداد2000) 1325( کو خواتین کے ایشوز کے حوالہ سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا، تاہم کہا کہ دنیا میں مختلف جغرافیائی وسیاسی مفادات کی بنا پر اس پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جنگ زدہ علاقوں کی خواتین بالخصوص مقبوضہ جموں و کشمیر کی طرح غیر ملکی قبضہ میں رہنے لوگوں خاص کر خواتین کے لئے اس قرارداد کے اطلاق کو یقینی بنانے کا عزم کرنا چاہیے ۔

بھارت نے 5 اگست کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ وادی کا غیر قانونی الحاق کیا اور اسے فوج کے زیر تسلط ایک قید خانہ میں تبدیل کردیا ،جہاں قابض فوج رات کے اندھیرے میں چھاپوں کے دوران کشمیری خواتین کے بچوں سمیت ان کے اہل خانہ کو اغواءکر کے انہیں قید اور ظلم و تشدد کا نشانہ بناتی ہے۔

 اس صورتحال پر کشمیری خواتین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے کیونکہ نقل و حمل پر سخت پابندیوں کے سبب یہ خواتین اپنے بچوں کو طبی امداد نہ ملنے سے سسکتے اور شہید ہو تے ہوئے دیکھنے پر مجبور ہیں۔