امریکی ہوائی اڈوں پرمیزائل حملے،80 افراد ہلاک کرنے کا دعویٰ

تہران ( ویب ڈیسک ) جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ایران کی جانب سے بغداد میں عین الاسد اور اربیل امریکی

ہوائی اڈوں پر میزائل حملے کیے گئے جن میں80 افراد ہلاک اور متعد د زخمی ہو گئے ۔ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے آپریشنز ہیڈ کوارٹر آکر کارروائی کی سربراہی کی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق عراق میں امریکی ایئربیس پر 30 میزائل داغے گئے۔

 ایرا نی میڈ یا نے دعوی کیا ہے کہ ان حملو ں میں 80 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو ئے ہیں ،ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں 80 امریکی “دہشت گرد” ہلاک ہوئے جب کہ ہیلی کاپٹر اور فوجی ساز و سامان کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ادھر پنٹاگون نے عراق میں امریکی فوج کے اڈے پر حملے کی تصدیق کر دی۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے 5 بجے ایران سے کیا گیا۔تا ہم پینٹاگون کی جانب سے ایرانی حملے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد فراہم نہیں کی گئی۔پینٹاگون کے ترجمان جوناتھن ہوفمین نے ایک بیان میں کہا کہ عراق میں الاسد فضائی اڈے اور اربیل میں ایک اور اڈے کو نشانہ بنایا گیا، ہم لڑائی سے ہونے والے نقصانات کے ابتدائی جائزے پر کام کررہے ہیں‘۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ’جیسے ہی ہم صورتحال اور اپنے ردِ عمل کا اندازہ لگالیں گے خطے میں موجود امریکی اہلکاروں، اتحادیوں اور شراکت داروں کا دفاع اور حفاظت کرنے کے لیے تمام تر ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی میزائل حملوں کے بعد پیغام میں کہا کہ سب کچھ ٹھیک ہے، امریکی فوج سب سے طاقتور ہے، وہ جلد بیان جاری کریں گے۔ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ متناسب جواب دے دیا، اسی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جہاں سے ایرانی جنرل کو ہدف بنایا گیا تھا۔