
ٹاؤنٹن: انگلینڈ اورویلز میں جاری کرکٹ کی بارہویں عالمی جنگ کے ایک اہم معرکے میں پاکستانی ٹیم نے دفاعی چیمپئن آسٹریلیا کو تحفے میں فتح
دے دی۔ ایک ایسامیچ جس میں جیتنا مشکل دکھائی نہیں دیتا تھا،پاکستان کو آسٹریلیا کے ہاتھوں 41 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔میچ کی خاص بات پاکستانی فاسٹ بولر محمد عامرکی شاندار کارکردگی تھی جنہوں نے ورلڈ کپ میں اب تک کی بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔
ٹاؤنٹن میں کھیلے گئے میچ میں قومی ٹیم کے کپتان سرفراز نے ٹاس جیت کر آسٹریلوی سائیڈ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔
آسٹریلیا کی جانب سے ایرون فنچ اور ڈیوڈ وارنر نے اننگز کا آغاز پر اعتماد انداز میں کیا۔وہاب ریاض کی ایک گیند پر سلپ میں کھڑے محمد آصف نے ہاتھوں میں آیا ہوا آسان کیچ چھوڑدیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں آسٹریلوی اوپنرز نے 146 رنز کی شراکت قائم کی۔ایرون فنچ 84 گیندوں پر 82 رنز بنا کر محمد عامر کی گیند پر محمد حفیظ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔ ون ڈاؤن آنے والے اسٹیو اسمتھ نے 10 رنز بنائے۔ وہ حفیظ کی گیند پر آصف علی کو کیچ دے بیٹھے۔ آسٹریلیا کے تیسرے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی گلین میکسویل بھی صرف 20 رنز بناپائے۔ ڈیوڈ وارنر نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور 107 رنز بنانے کے بعد شاہین آفریدی کا شکار بنے۔
ایک وقت پر ایسا لگ رہا تھا کہ آسٹریلیا 350 سے زائد رنز کا ہدف دینے میں کامیاب ہوجائے گا۔ تاہم40 ویں اوورز کے بعد پاکستانی بولرز نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا اور آسٹریلوی کھلاڑیوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ شان مارش نے 23 اور عثمان خواجہ نے 18 رنز بنائے۔ محمد عامر نے دونوں کھلاڑیوں کو آؤٹ کردیا۔ کولٹر نائل کو صرف 2 رنز پر وہاب ریاض نے آؤٹ کیا۔ محمد عامر نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5 آسٹریلین کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی جس کی بدولت آسٹریلیا کی پوری ٹیم 49 اوورز میں 307 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔
آسٹریلیا کے 308 رنز کے جواب میں قومی ٹیم کا آغاز اچھا نہ تھا، صرف 2 رنز پر پاکستان کی پہلی وکٹ فخر زمان کی صورت میں گری جو صفر پر پویلین لوٹ گئے، ابتدائی نقصان کے بعد امام الحق اور بابر اعظم ذمہ دارانہ انداز میں اننگز کو آگے بڑھایا ۔ بابر اعظم 56 کے مجموعے پر چلتے بنے، انہوں نے 30 رنز بنائے جس میں 7 چوکے بھی شامل تھے۔اس کے بعد امام الحق اور محمد حفیظ کے درمیان 80 رنز کی پارٹنرشپ ہوئی اور اس دوران امام الحق نے نصف سنچری اسکور کی تاہم وہ 136 کے مجموعی اسکور پر 53 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوگئے۔ پھر کپتان سرفراز کریز پر آئے اور اننگز کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے رہے۔ ٹیم کے اسکور میں 10 رنز اضافے کے بعد محمد حفیظ بھی چلتے بنے، انہوں نے 46 رنز بنائے۔ تجربہ کار شعیب ملک مکمل ناکام رہے اور صفر پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔آصف علی نے ایک بار پھر مایوس کیا۔ وہ بھی 160 کے مجموعے پر صرف 5 رنز بنا کرساتھ چھوڑ گئے۔حسن علی نے سرفراز احمد کے ساتھ مل کر اسکور میں 40 رنز کا اضافہ کیا اور وہ 32 رنز بنا کر رچرڈسن کا شکار بن گئے۔ وہاب ریاض نے کپتان کا بھرپور ساتھ دیا اور 64 رنز جوڑ کر ٹیم کو میچ میں واپس لانے کی کوشش کی جو بے سود ثابت ہوئی، وہاب ریاض 45 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جس کے بعد محمد عامر بغیر کھاتہ کھولے بولڈ ہوگئے جب کہ سرفراز احمد 40 رنز پر رن آؤٹ گئے اور یوں پوری ٹیم 266 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔














